-
عالمیت یا محض مبادیات ؟ (قسط ثانی) طویل زمانہ :
علمِ دین ایک انتہائی وسیع، عمیق اور گہرا سمندر ہے، اس میں غوطہ زنی کرنے اور اس کے بیش بہا موتی نکالنے کے لیے عمریں درکار ہوتی ہیں، سلف صالحین علم میں پختگی کے لیے طویل عرصہ استاد کے زیرِ سایہ تعلیم حاصل کرتے تھے۔
شرعی مدارس اور مستند اسلامی جامعات میں ایک طالب علم آٹھ سے دس سال کا طویل اور کٹھن عرصہ صرف کرتا ہے، اس طویل عرصے میں وہ محض طوطے کی طرح کتابیں نہیں رٹتا، بلکہ وہ ان سالوں میں بتدریج علم کے مراحل طے کرتا ہے، فقہائے کرام کی مختلف فقہی آراء، احادیث کے ظاہری تعارض، ان کے درمیان تطبیق کے اصولوں اور سلف صالحین کے طرزِ استدلال سے آہستہ آہستہ مانوس ہوتا ہے، اس طویل مشقت، راتوں کی بیداری اور علمی واجبات کے نتیجے میں اس کی شخصیت میں ایک علمی پختگی، گہرا ٹھہراؤ اور تواضع پیدا ہوتا ہے، اسے جوں جوں علم حاصل ہوتا ہے، یہ احساس شدت سے ستانے لگتا ہے کہ علم کا یہ سمندر کتنا بے کراں ہے اور اس کی اپنی معلومات کس قدر محدود ہیں۔
لیکن اس کے برعکس جب کوئی شخص ایک دو سال یا چند مہینوں پر مشتمل شارٹ ٹرم آن لائن کلاسز میں داخلہ لیتا ہے، تو اسے شریعت کی محض بنیادی چیزیں سکھائی جاتی ہیں، چونکہ وہ علم کی حقیقی گہرائی، اس کی وسعتوں اور فقہی اختلافات کے علمی پس منظر سے ناآشنا ہوتا ہے، اس لئے وہ چند موٹی موٹی اصطلاحات اور تراجم سیکھ کر شدید خود فریبی کا شکار ہو جاتا ہے اور خود کو مجتہد، علامہ اور مفتی تصور کرنے لگتا ہے، اور اس میں وہ ان ادارے یا انسٹیٹیوٹ سے عالمیت یا ڈپلومہ کے نام پر جاری کی گئیں شہادات (سرٹیفکیٹس) کو بنیاد بناتا ہے۔
آثارِ سلف پر نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ محدثین عظام اور فقہاء کرام نے علمِ دین کے حصول کے لیے کیسی کٹھن، صبر آزما اور طویل مسافتیں طے کیں، انہوں نے محض ایک حدیث سننے یا اس کی سند کی تصدیق کے لیے مہینوں پر محیط اسفار کئے، بھوک اور پیاس کی شدتیں برداشت کیں، اور اپنی پوری زندگی علم کی جستجو کے لیے وقف کر دی، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ اور ان جیسے دیگر علماء کرام کے حالاتِ زندگی اس بات کے شاہد ہیں کہ انہوں نے علم کو پارٹ ٹائم یا فرصت کے اوقات کے مشغلے کے طور پر نہیں اپنایا تھا، بلکہ علم کے لیے اپنا تن، من، دھن، نیندیں اور آسائشیں سب کچھ قربان کر دی تھیں، سلف کا مشہور مقولہ ہے:
’’علم اس وقت تک تمہیں اپنا تھوڑا سا حصہ بھی عطا نہیں کرتا، جب تک تم خود کو مکمل طور پر اس کے حوالے نہ کر دو‘‘۔
[الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي:2/174]
اسی طرح علم کے لیے درکار اس کٹھن محنت کی بابت یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’لا يستطاع العلم براحة الجسم‘‘۔ ’’جسم کو راحت اور آرام دے کر علم حاصل نہیں کیا جا سکتا‘‘۔
[جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر :1/385]
عصر حاضر کے آن لائن شارٹ کورسز میں اس جہدِ مسلسل، تڑپ اور ایثار کا شدید اور نمایاں فقدان پایا جاتا ہے۔
شارٹ ٹرم اسناد (سرٹیفکیٹس) کی بنیاد پر فتویٰ دینے کی جسارت :
اللہ تعالیٰ نے شریعت کے معاملے میں بغیر علم کے بات کرنے کو حرام قرار دیا ہے، فرمایا:
﴿قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾
[الأعراف: 33]
ترجمہ: ’’آپ فرما دیجیے کہ میرے رب نے تو بے حیائیوں کو حرام کیا ہے، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں، اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو، اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ اسے شریک ٹھہراؤ جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری، اور یہ کہ تم اللہ پر وہ کہو جو تم نہیں جانتے‘‘۔
آج کل بہت سے انسٹیٹیوٹ چند ماہ یا سالوں میں عالمیت اور افتاء کے ڈپلومے فراہم کر رہے ہیں، ان کے فارغ التحصیل جو بمشکل دین کی بنیادی معلومات رکھتے ہیں، درس و تدریس، طلاق، وراثت، جدید مالیاتی نظام اور حلال و حرام جیسے پیچیدہ مسائل پر فتوے دینے لگتے ہیں، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَا تَصِفُ أَلۡسِنَتُكُمُ ٱلۡكَذِبَ هَـٰذَا حَلَـٰلࣱ وَهَـٰذَا حَرَامࣱ لِّتَفۡتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۚ إِنَّ ٱلَّذِینَ یَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا یُفۡلِحُونَ﴾
[النحل : 116]
ترجمہ : ’’کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، اس طرح حکم لگانا اللہ پر افترا پردازی کرنا ہے، بےشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے‘‘۔
اس آیت کی تفسیر میں امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ ابو نضرہ رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :’’میں نے جب سے سورۃ النحل کی یہ آیت پڑھی ہے فتویٰ دینے سے ڈرتا ہوں‘‘۔
اس قول پر امام شوکانی رحمہ اللہ تعلیقا ًبیان کرتے ہیں کہ :
’’اللہ ان پر رحم فرمائے، یقیناً انہوں نے سچ کہا، بلاشبہ یہ آیت اپنے الفاظ کے عموم کے ساتھ ہر اس شخص کے فتوے کو شامل ہے جو کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ ﷺ کے خلاف فتویٰ دیتا ہے، جیسا کہ اکثر ان لوگوں سے ہوتا ہے جو رائے (قیاس) کو قرآن وسنت پر مقدم کرتے ہوئے ترجیح دیتے ہیں، یا جو کتاب و سنت کے علم سے جاہل ہیں، جیسے مقلدین، اور بے شک یہ لوگ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ان کے اور ان کے فتوؤں کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے اور انہیں ان کی جہالت سے روکا جائے، کیونکہ انہوں نے بغیر علم ، بغیر رہنمائی اور کتاب وسنت کے بغیر فتویٰ دیا، چنانچہ یہ ایسے لوگ ہیں جو خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں‘‘۔
[فتح القدیر للشوکانی :ج:3/ص240]
اس افسوسناک صورتحال کی بالکل واضح ترین مثال نبی کریم ﷺ کی وہ حدیث ہے، جس میں آپ ﷺ نے فرمایا:
’’إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا‘‘۔
’’اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے چھینتے ہوئے نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھا لے گا حتیٰ کہ جب وہ (لوگوں میں) کسی عالم کو (باقی) نہیں چھوڑے گا تو لوگ (دین کے معاملات میں بھی) جاہلوں کو اپنا سربراہ بنا لیں گے، ان سے (دین کے بارے میں) سوال کیے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر فتوے دیں گے، اس طرح خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے‘‘۔
[صحيح مسلم: 2673]
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’تَفَقَّھُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا‘‘۔’’سردار بننے سے پہلے سمجھدار بنو (یعنی دین کا علم حاصل کرو)‘‘۔
[صحیح البخاری:بَابُ الِاغْتِبَاطِ فِي العِلْمِ وَالحِكْمَةِ]
ان شارٹ ٹرم کورسز کی بنیاد پر آج ہر وہ شخص جو چند بنیادی چیزیں سیکھ لیتا ہے، خود کو عالم سمجھ بیٹھتا ہے، اردو کی ایک مشہور کہاوت ’’نیم حکیم خطرۂ جان، نیم عالم خطرۂ ایمان‘‘ عین اسی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، جس طرح نیم حکیم مریض کی جان کے لیے خطرہ ہے، اسی طرح نیم عالم لوگوں کے ایمان کے لیے خطرہ ہے۔
فرضِ عین اور فرضِ کفایہ کے درمیان فرق کرنا لازمی ہے :
اس تجزیہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، ڈیجیٹل ذرائع یا آن لائن تعلیم کا استعمال بذاتِ خود حرام یا ناجائز ہے، دینِ اسلام ایک آفاقی، ابدی اور ہمہ گیر دین ہے جو ہر دور کے تقاضوں کے مطابق، ہر نئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے پیغامات کو پہنچانے کی بھرپور حمایت کرتا ہے، علماء کرام اور دیگر عالمی معتبر اداروں نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ اگر شرعی حدود، پردے اور آداب کی مکمل رعایت کرتے ہوئے آن لائن ذرائع سے علمی استفادہ کیا جائے، مستند علماء کے دروس سنے جائیں، اور اس میں کوئی خلافِ شرع امر نہ ہو، تو یہ قطعی طور پر جائز، مفید اور دورِ حاضر کی ضرورت ہے، لیکن یہاں شریعت کے دو اہم پہلوؤں میں فرق کرنا لازمی ہے :
ہر مسلمان پر بنیادی دینی احکام، عقائد اور حلال و حرام کی تمیز سیکھنا فرضِ عین ہے، جس کے لیے آن لائن کلاسز، مستند علماء کے لیکچرز اور مساجد کے دروس جدید دور کی ایک اہم ضرورت اور بہترین ذریعہ ہیں، جبکہ مفسر، فقیہ یا مفتی وغیرہ بننا فرضِ کفایہ ہے، جس کے لیے محض شارٹ کورسز یا جز وقتی آن لائن مطالعہ کافی نہیں، بلکہ یہ مناصب برسوں کی ہمہ وقتی محنت اور اساتذہ کی زیرِ نگرانی کڑی محنت و مشقت کا تقاضا کرتے ہیں، اصل بگاڑ تب پیدا ہوتا ہے جب بنیادی معلومات رکھنے والا شخص خود کو اجتہاد و فتویٰ کا اہل سمجھنے لگے، یہ جہلِ مرکب نہ صرف گمراہی کا سبب ہے بلکہ ان اداروں و انسٹیٹیوٹ کی بھی بڑی اخلاقی و شرعی خیانت ہے جو چند ماہ کے کورسز پر عالم؍عالمہ یا مفتی؍مفتیہ کے اسناد بانٹ کر معاشرے میں گمراہی پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔
رہنمائی اور گزارشات :
(۱) عوام الناس اور دنیاوی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات کو چاہیے کہ وہ دین کے بنیادی، ضروری اور فرضِ عین احکام ضرور سیکھیں اور اس اعلیٰ مقصد کے لیے جدید آن لائن ذرائع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، لیکن کبھی بھی اس مختصر مطالعہ کی بنیاد پر خود کو شریعت کا شارح، محقق اور مفتی تصور نہ کریں۔
(۲) اسی طرح عوام الناس کو چاہیے کہ دینی مسائل، پیچیدہ فقہی معاملات اور فتاویٰ کے حصول کے لیے سوشل میڈیا کے نوخیز، نام نہاد اور شارٹ ٹرم کورسز سے پڑھے ہوئے طلبہ پر انحصار کرنے کے بجائے مستند، شرعی جامعات و کلیات سے متخرج علماء اور معتبر اداروں کے دارالافتاء کی طرف ہی رجوع کریں۔
(۳) آن لائن کورسز کروانے والے ادارے یا انسٹیٹیوٹ پر شرعاً اور اخلاقاً لازم ہے کہ وہ اپنے شارٹ ٹرم کورسز کو عالمیت کے بجائے ’’بنیادی اسلامی تعلیمات‘‘، یا ’’ڈپلومہ اِن اسلامک اسٹڈیز‘‘ کا نام دیں، نہ کہ انہیں عالمیت یا افتاء کے مساوی قرار دے کر طلبہ اور معاشرے کو شدید دھوکے اور فتنہ میں مبتلا کریں۔
(۴) آن لائن شارٹ ٹرم کورسز چلانے والے ادارے یا انسٹیٹیوٹ اعلان کرتے وقت اگر عالمیت کا نام دینا ہی چاہ رہے ہیں تو دو بنیادی شرطوں کی بنیاد پر عالمیت کا نام دیا جاسکتا ہے:
پہلی شرط : دورانِ تعلیم طلبہ کو بتا دیا جائے کہ آپ کو صرف اسلام کی بنیادی تعلیم دی جارہی ہے، چنانچہ اس کی بنیاد پر آپ خود کو عالم و فاضل نہ سمجھ بیٹھنا کہ لوگوں کے درمیان فتویٰ دینے لگ جائیں۔
دوسری شرط : سرٹیفکیٹ میں عالمیت یا ڈپلومہ کا تذکرہ نہ ہو، بلکہ شہادۃ اجتیاز (Passing certificate)، یا شہادہ حضور (Certificate of attendance) کے نام پر سرٹیفکیٹ دیں۔
خلاصۂ کلام :
علمِ دین ایک عظیم امانت اور اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، جب امانتیں نااہلوں کو سونپ دی جائیں تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ، فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ‘‘، قَالَ: كَيْفَ إِضَاعَتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:’’إِذَا أُسْنِدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ‘‘۔
’’جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو‘‘، پوچھا: یا رسول اللہ! امانت کس طرح ضائع کی جائے گی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’جب معاملات نا اہل لوگوں کے سپرد کر دیئے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو‘‘۔
[صحيح البخاري:59]
عصر حاضر کے مسلمانوں خاص طور پر نوجوان نسل پر لازم ہے کہ وہ علمِ دین کے اس عظیم سلفی منہج کا تحفظ کریں جس کی بنیاد نبی کریم ﷺ نے رکھی، اور جسے سلف صالحین نے اپنی طویل مشقت لمبے اسفار اور قربانیوں کے ذریعے ہم تک انتہائی محفوظ حالت میں پہنچایا۔
دین سیکھنے کے لیے آن لائن ذرائع کا مثبت استعمال ضرور کریں، لیکن پیچیدہ مسائل اور فتاویٰ کے لیے ہمیشہ مستند علماء اور معتبر اداروں کی طرف ہی رجوع کریں، نیز علم کو اخلاص، طویل جدوجہد اور صحبتِ شیوخ کے ساتھ حاصل کرنا ہی امت کو موجودہ فکری و اعتقادی فتنوں سے بچا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے، ریاکاری سے بچائے اور تمام ظاہری و باطنی فتنوں سے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ (آمین)