-
قرآنِ کریم سمجھ کر پڑھنا کیوں ضروری ہے؟ قرآن کریم سمجھ کر پڑھنا محض ایک علمی ذوق نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو’’ذکر‘‘ اور ’’بیان‘‘ قرار دیا ہے، اور بیان وہی ہوتا ہے جو مخاطب کی سمجھ میں آئے۔
قرآنِ کریم صرف ثواب کے لیے تلاوت کی جانے والی کتاب نہیں، بلکہ یہ انسانیت کے لیے’’ھدی للناس‘‘ (لوگوں کے لیے ہدایت) بن کر نازل ہوئی ہے۔
ہدایت پانے کے لیے پہلا قدم اس کے معنیٰ کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہے۔
(۱) قرآنِ کریم کی نظر میں تدبر کی اہمیت:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر اسے سمجھنے اور اس میں غور کرنے کی دعوت دی ہے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی سخت مذمت کی ہے جو قرآن کے الفاظ تو پڑھتے ہیں لیکن اس کے معانی میں غوطہ زن نہیں ہوتے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ [ص: 29]’’یہ ایک مبارک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں‘‘۔
اس آیت میں’’لِّيَدَّبَّرُوا‘‘ کا (لام) غرض اور مقصد کو ظاہر کرتا ہے، یعنی اس کتاب کے اتارنے کی غرض ہی یہ ہے کہ اس کی آیات میں تدبر کیا جائے۔
مفسرین کے مطابق تدبر سے مراد آیات کے معانی کو سمجھنا ہے، کیوں کہ تلاوت کا اصل ثمرہ تدبر ہے اور تدبر کا ثمرہ عمل ہے۔ (تفسیر ابنِ کثیر ، جلد 7،صفحہ59)
(۲ ) قرآن بطورِ ’’فرقان‘‘(حق و باطل کی کسوٹی) یعنی وہ کسوٹی جو سچ اور جھوٹ میں فرق کرے۔
ارشادِ الٰہی ہے:﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ﴾ [البقرہ: 185]’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کی واضح نشانیاں اور حق و باطل میں فرق کرنے والی باتیں ہیں‘‘۔
ہدایت (Guidance) تبھی ممکن ہے جب پیغام سمجھ میں آئے، قرآن کے الفاظ ساحل کی طرح ہیں اور اس کے معانی ایک بیکراں سمندر کی مانند ہیں، تلاوت کرنا ساحل کی سیر ہے، لیکن اس کے چھپے ہوئے نایاب موتی اور خزانے صرف اسی کو ملتے ہیں جو اس کی گہرائی میں غواصی (تدبر) کرتا ہے۔
اگر ایک مریض کو نسخہ لکھ کر دیا جائے اور وہ اسے سمجھے بغیر روزانہ سو بار پڑھے، تو اسے شفا نہیں ملے گی، اسی طرح قرآن کی آیات ’’بینات‘‘ (واضح نشانیاں) تبھی بنتی ہیں جب ان کا مفہوم دل و دماغ میں اترے۔
(۳) قرآن کریم کا سمجھنا فہم دین اور خیر الٰہی کی علامت ہے، جیسا کہ ارشاد نبوی ہے :
’’مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ‘‘۔’’اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی گہری سمجھ عطا فرما دیتا ہے‘‘۔ (متفق علیہ)
حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ:
’’اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جس کو دین کی سمجھ نہیں دی گئی وہ ’’ خیر‘‘ سے محروم رہا۔
یہاں’’فقہ‘‘ سے مراد قرآن و سنت کے احکامات اور ان کے اسرار و رموز کو جاننا ہے‘‘۔ (فتح الباری، کتاب العلم، جلد 1، صفحہ 216)
فقہ کا مطلب محض جاننا نہیں بلکہ گہری فہم حاصل کرنا ہے، اللہ کی بہترین نعمت یہ نہیں کہ انسان صرف الفاظ رٹ لے، بلکہ یہ ہے کہ اسے دین کی سمجھ آ جائے۔
قرآن کو سمجھ کر پڑھنا ہی وہ’’فقہ‘‘ ہے جو انسان کو خیرِ کثیر کی طرف لے جاتی ہے۔
(۴)قرآن کی تلاوت محض پر تنبیہ:
نبی اکرم ﷺنے فرمایا کہ صرف زبان سے قرآن پڑھنا اور دل ودماغ کا اس سے غافل رہنا ناپسندیدہ صفت ہے، فرمایا:’’وہ قرآن کو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا‘‘۔ [ صحیح مسلم: 1066]
امام نووی رحمہ اللہ اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’ان کا دل قُرآن کے معنیٰ سے متاثر نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی عقل اس کا ادراک کرتی ہے، ان کا حصہ صرف زبان کی حرکت تک محدود ہے‘‘۔[المنهاج: شرح صحیح مسلم، ج:7، ص:651]
(۵) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا منہج تعلیم:
صحابۂ کرام کے نزدیک تلاوت کا مطلب صرف زبان چلانا نہیں بلکہ علم اور عمل کا مجموعہ تھا، (یعنی الفاظ اور معانی دونوں کا مجموعہ تھا)
ابو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:’’ہمیں ان صحابہ نے بتایا جو ہمیں قرآن پڑھاتے تھے کہ وہ جب نبی ﷺ سے دس آیتیں سیکھتے تو آگے نہ بڑھتے جب تک ان میں موجود علم اور عمل کو نہ سیکھ لیتے‘‘۔
[تفسیر طبری، ج:1، ص:80 / مسند احمد:23482، حسن]
یہ دلیل اس بات پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ سلف صالحین کے ہاں قرآن سمجھنا اور اس پر عمل کرنا تلاوت کا لازمی حصہ تھا۔ نیز امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنے رسالہ میں اس اثر کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ: ’’صحابۂ کرام کے لئے یہ بات محال تھی کہ وہ قرآن کے الفاظ پڑھیں اور اس کے معانی سے ناواقف رہیں، ان کے نزدیک قرآن ’’کتابِ عمل‘‘ تھی نہ کہ صرف ’’کتابِ تلاوت‘‘۔
[مقدمہ فی اصول التفسیر،ص:35]
بعضـ صحابہ نے سورہ بقرہ سیکھنے میں کئی کئی سال لگا دئے۔ یہ طوالت صرف حفظ کے لیےنہیں بلکہ ’’فہم اور عمل‘‘ کے لیے تھی۔
(۶) فہم قرآن اور تزکیۂ نفس:
قرآن کو سمجھنا انسان کے اندر خشیت پیدا کرنےکا ذریعہ ہے۔ ﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ﴾
’’اللہ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں‘‘۔
[فاطر:28]
علامہ قرطبی رحمہ اللّٰہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہاں ’’علماء‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی قدرت، اس کے کلام اور اس کے احکامات کی معرفت رکھتے ہیں، جس قدر انسان قرآن کو سمجھتا ہے، اسی قدر اس کے دل میں اللہ کی عظمت پیدا ہوتی ہے‘‘۔ [الجامع لاحکام القرآن: تفسیر قرطبی،ج:17، ص:335]
قارئین کرام: مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ قرآن کا اصل مقصد محض ثواب کے لیے پڑھنا نہیں بلکہ ہدایت کے لیے سمجھنا بھی ضروری ہے، سلف صالحین کا یہی طریقہ تھا، اورصحابہ و تابعین قرآن کے الفاظ کےساتھ ساتھ اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھنااور سیکھنابھی فرض سمجھتے تھے، اور ایمانی تقاضہ بھی یہی ہے نیز یہ کہ نماز، ذِکر اور دیگر عبادات میں یکسوئی تبھی ممکن ہے جب انسان کو پتہ ہو کہ وہ اپنے خالق سے کیا کہہ رہا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیوں میں بہتری، تبدیلی اورانقلاب آئے تو ہمیں تلاوت کے ساتھ ساتھ ترجمہ، تفسیر اور فہمِ قرآن کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔
اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ! توہمارے دلوں کو قرآن کے نور سے منور فرما، ہمیں اس کی آیات میں تدبر کرنے والا اور اس کے احکام پر عمل کرنے والا بنا دے۔ آمین یا ربّ العالمین