Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کے محاضرات کا تحریری سلسلہ ۔محاضرہ نمبر(۵)

    معارف ابن تیمیہ کی عصری معنویت اور استفادے کے طریقے:(چوتھی قسط)

    شیخ آپ نے بھی معارف ابن تیمیہ پرایک زندگی گزاری ہے ،پڑھا ہے اور کافی کام بھی کیا ہے ،اگر آپ سےیہ گزارش کی جائے کہ آپ کی ابن تیمیہ کے تعلق سے کیا سرگزشت رہی ہے؟ تو آپ کیا کہیں گے ؟
    میں اپنے بارےمیں مختصرا ًیہ بتاؤں اور کوئی دعویٰ تو نہیں کرتا لیکن جو گزرا ہے یعنی 25-26سال پہلے میں نے سوچا کہ مجموع الفتاویٰ میں کون کون سے رسائل ہیں ،ساری جلدوں کو الٹ پلٹ کرکے ایک فہرست بنائی ،اب اس سے یہ آسانی ہوگئی کہ کس جلد میں کو ن سی کتاب ہے؟ کہاں ہے؟پھر اس سے پڑھنا آسان ہوگیا، کہنے کا مطلب ہے کہ جسے تجسس ہو وہ خود ایک فہرست بنا لے ،دوسروں پر منحصر نہ رہے ، میں نے مجموع الفتاویٰ کی پوری فہرست بناکر کے پھر پڑھنا شروع کیا ،اسی طرح ابن تیمیہ کی دوسری وہ کتابیں جو مجموع الفتاویٰ میں نہیں تھیں ،میں پہلے یہ سمجھتا تھا کہ ابن تیمیہ کی ساری کتابیں وہی ہیں جو مجموع الفتاویٰ میں ہیں ۔ بعد میں معلوم ہواکہ ابھی ان کی ضخیم کئی ایک کتابیں اور رسائل ایسے ہیں جو اس سے باہر ہیں ، پھر میں نے ان کی الگ سے فہرست بنائی اور پڑھنا شروع کیا، مثلاً ان کا ایک دعاؤں کا مجموعہ ہے’’ الکلم الطیب‘‘اس کے علاوہ مجھے جہاں بھی ابن تیمیہ کی کتابوں کے اسماء ملتے تھے اور لگتا تھا کہ وہ مجموع الفتاویٰ کے اند ر نہیں ہیں ، ان کی الگ سے ایک فہرست بنالیتا اور اس سلسلہ میں دلچسبی بڑھتی گئی پھر جامع المسائل کے نام سے ایک سیریز شروع کی ،پہلے ہی سال چار جلدیں اس کی ایسی بن گئیں کہ جن میں ابن تیمیہ کے وہ رسائل تھے جو مجموع الفتاویٰ میں نہیں تھے ،پھر اس سے حوصلہ ملا او ردوسری فہرستیں دیکھیں اور جمع کرتا گیا یہاں تک کہ اس کی نو جلدیں مکمل ہوگئیں (1)،اس سے پہلے ڈاکٹر محمد رشاد سالم مصری نےیہی کا م کیا،وہ پی ایچ ڈی کرنے کے لیے انگلینڈ چلے گئے تھے ،وہاں جاکرکے انہوں نے ابن تیمیہ کے علمی ذخائر جمع کرنے کی کوشش کی او ران کاارادہ تھا کہ اس کو سلیقہ سے شائع کریں گے ، ابھی وہ جمع ہی کررہے تھے کہ ایک ترتیب سے مجموع الفتاویٰ شائع ہونا شروع ہوگیا،1961 سے لے کر کے 1966 تک میں مجموع الفتاوی پورا شائع ہوگیا اور اکثر چیزیں ان کی چھپ گئیں ، جو چیزیں بچ گئیں تھیں بعد میں دکتور محمد رشاد سالم مصری نے’’ جامع الرسائل‘‘ کے نام سے د وجلدوں میں چھاپا (2) میں نے یہ کیا کہ جو مجموع الفتاویٰ اورجامع الرسائل دونوں میں نہیں چھپے ہیں ان کو میں نے اکٹھا کرنا شروع کیا،اور اس میں بھی حاص طورپر جو ابن تیمیہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کتابیں تھیں ، عام طورپر لوگوں نے اسے نہیں شائع کیاتھا ،میں نے ان پر توجہ دی اور چھاپا ،ان کے اصل مسودات کو دیکھ کرکے یہ بھی پتا چلا کہ ان کی کتنی چیزیں ایسی ہیں جو غلط چھپی ہوئی ہیں اور بے ترتیب چھپی ہوئی ہیں ، ایک صفحہ کہیں، دوسرا صفحہ کہیں ، ایسے ہی مجموع الفتاویٰ کو ترتیب دینے میں صاحب کتاب نے کو ن سے نسخے سامنے رکھے ہیں اور کو ن سے نہیں ، تواس وقت انہی چیزوں کو جمع کرنے میں لگا ہوا ہوں ،ایک ایک رسالہ کے بارے میں پوری بحث و تحقیق کیا ہوں،مثلاً ایک رسالہ ان کا ہے’’رفع الملام عن الائمۃ الاعلام ‘‘ ،اس کے تقریباً دنیا بھر میں 44یا 45 نسخے موجود ہیں ،سب سے پہلے یہ ممبئی میں 1311ھ میں لیتھو پر چھپی،ابو بکر کٹیر صاحب نے شائع کیا تھا ،پھر کب کہا ں چھپی ،اس کے بعد اس کاترجمہ دوسری زبانوں میں کس کس نے کیااور اس پر جو مختلف دراسات ہیں وہ کیاہیں ،پھراس کتاب کا ذکر خود ابن تیمیہ نے یا ان کے شاگردوں نے کہیں کیاہے یانہیں ، توایک کتاب سے متعلق ساری معلومات اکٹھا کررہا ہوں ،میر ےپاس مختصر میں د و کام ہیں،ایک تو غیر مطبوعہ چیزوں کو شائع کرنا ،دوسرے یہ کہ علامہ ابن تیمیہ سے متعلق جو مقالات ہیں ان کو شائع کرنا، ابھی ابن تیمیہ پر چھ سات سال تک کام کیا جائے تو کہیں ان پر کام ہوسکتا ہے۔
    کبھی کبھا ر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی رہنمائی کردیتا ہے ، ایک با رکویت گیا ہواتھا ،جمعیہ احیاء التراث میں بیٹھاتھا ،وہاں کسی نے دکھایا کہ دیکھئے یہ کوئی مخطوطہ ہے جس کی یہ مائیکرو فلم ہے یعنی سی ڈی ،پڑھنے کے بعد معلوم ہوا واقعتاً یہ ابن تیمیہ کی کتاب ہے ،ابن تیمیہ کی ایک بہت اہم کتاب فتاویٰ حمویہ ہے ،جس پر بہت داروگیر ہوئی، بہت ہنگامہ ہوا ، اس پر ایک شخص شمس الدین سروجی نے ایک جواب لکھا تھا ، پھر اس کا جواب الجواب ابن تیمیہ نے تیار کیا تھا، جس کے بارے میں مؤلفین بتاتے ہیں اور خود ابن تیمیہ بتاتے ہیں کہ چار پانچ جلدوں میں تھی ،اس میں بہت سے مباحث تھے ، اس میں سے صرف وہ مبحث ملا تھا کہ ’’ احادیث اور آثار سے استدلال درست ہے یا نہیں‘‘ ،پھر اسے میں نے’’ جواب الاعتراضات المصریہ الفتوی الحمویہ ‘‘کے نام سے چھاپا۔ ایک بار ایسے ہی میں رامپور رضا لائبریری میں گیا ، وہاں ایک مخطوطہ نظر آیا ، اس میں دیکھا کہ یہ مخطوطہ ابن عقیل کی جانب منسوب ہے ،( یہ شرح ابن عقیل والے نہیں ہیں ،بلکہ وہ ایک حنبلی عالم ہیں ) جن کی وفات 515ھ میں ہوئی ،بعد میں معلو م ہوا کہ وہ ابن عقیل نہیں ہیں ، ایک برہان الدین نسفی کے نام سے گزرے ہیں جن کی وفات 680ھ میں ہوئی ہے ، اس میں رازی اور دوسرے لوگو ں کا ذکر کیا گیاہے،تحقیق کیا تو پتہ چلا کہ یہ تو ابن تیمیہ کی کتاب ہے ،’’تنبیہ الرجل العاقل فی جدل الباطل‘‘ یہ بہت شاندار کتاب ہے، کہنے کا مطلب ہے کہ کہیں پر بھی جاتا ہوں،ساتھ میں اپنا مقصد بھی سامنے رکھے رکھتا ہوں ،جب کوئی کتاب مل جاتی ہے تو اس پر کام شروع کردیتا ہوں ۔ ابن تیمیہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کوئی کتاب کہیں ملتی ہے مخطوطہ یا ان کے حوالہ سے کسی نے کوئی کتاب لکھی ہے تو اسی کو جمع کرتے رہتا ہوں ،اس بیچ میں ہم نے ایک کام یہ کیا کہ ابن تیمیہ کی سیرت پر بنیادی مصادر کی حیثیت رکھنے والی جو کتابیں ہیں ،اس میں ایک کتاب ’’العقود الدریة ‘‘ ہے، یہ ابن عبد الہادی کی لکھی ہوئی کتاب ہے ۔ 744ھ میں ان کی وفا ت ہوئی، یہ ابن تیمیہ کے شاگرد ہیں، یہ بہت بڑے عالم تھے ، حدیث ،علل اور رجال کے بھی عالم تھے ،کم عمری میں ان کا انتقال ہوگیاتھا، ان کی ایک کتاب ہے’’ الصارم المنکی فی الردعلی السبکی‘‘ ابن عبد الہادی کے علاوہ جتنے لوگوں نے بھی تیرہویں صدی ہجری تک ابن تیمیہ کی سیرت پر لکھا ہے، اور کہیں مخطوطہ وغیرہ بھی اگر دکھا تو اس کی بھی تحقیق کرکے’’الجامع لسیرة شیخ الاسلام ابن تیمیۃ‘‘ کے نام سے ہم نے شائع کردیا ہے ۔اسی طرح الجامع کے اندر ایک موضوعاتی فہرست بھی ہم نے لگادی ہے کہ جس سے ابن تیمیہ کے بارے میں ہمیں اور کچھ بھی تحقیق کرنی ہو تو آسانی کے ساتھ وہاں سے ہم تلاش سکتے ہیں ۔حال میں میرے پاس ان کے تعلق سے دو کا م تھے ایک تو ان کی کتابوں کی ویڈیو گرافی دوسرے ان کی شخصیت کے متعلق جو کچھ بھی شرق و غرب میں کام ہوا ہے ان تمام کو جمع کرنا ہے۔’’جامع المسائل‘‘ میں بخط مصنف 8 کتابیں شامل ہیں ۔اور دوسرے کے ہاتھ کی بھی ہیں ،لیکن جودوسرے کے ہاتھ کی ہوتی ہیں وہ زیادہ مشکل ہوتی ہیں او رمحرف بھی ہوتی ہیں ،ابن تیمیہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی جب کوئی تحریر ملتی ہے تو میں بہت خوش ہوتا ہوں ،کیونکہ اب اس میں کچھ تو کرنا نہیں ہوتا ہے صرف پڑھنا ہی ہوتا ہے ،لیکن دوسرے نے پڑھ کر کیا سے کیا بنادیا ہے اتنا محرف تو نہیں ہوگا،اب یہی دیکھ لیجیے انما الاعمال والی کتاب جو میں نے ایڈٹ کرکے چھاپی ہے یہ مجموع الفتاویٰ میں بھی چھپی ہے، دونوں کو ملائیے اور دیکھئے کہ دونوں میں کتنا فرق ہے؟میں نے اس کتاب میں بخط مؤلف بھی شامل کردیا ہے تاکہ کم ازکم کوئی پڑھ کرکے مشق تو کرےاور جب پڑھنا آجائے تو ابن تیمیہ کے مخطوطات کو پڑھ کرکے چھاپے ۔
    شیخ ایسا کبھی ہوا کہ جب کوئی مخطوطہ ملا ہواور یہ دیکھ کرکے خوشی ہوئی ہو کہ ابن تیمیہ کی تحریر مل گئی اور جائزہ لینے کے بعد پتا چلا کہ یہ تو ان کی تحریر ہے ہی نہیں؟
    ایسا بہت بار ہوا ہے اور بہت ساری کتابوں کی مثالیں میں د ے سکتاہوں ،ایک مرتبہ ایک شخص نے ایک کتاب دکھائی جو تقدیر کے مسئلہ پر لکھی گئی تھی اور مؤلف کی اس میں مقفع و مسجع عبارتیں ہیں، البا ب الاول ،الباب الثانی وغیرہ ۔اور اخیر میں لکھا تھا کتبہ ابن تیمیۃ تاریخ و غیرہ سب لکھا ہے ، میں نے دیکھتے ہی کہا کہ یہ ابن تیمیہ کی کتاب نہیں ہے ، اس لیے کہ اولا ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اپنی کتابوں میں یہ اسلوب ہے ہی نہیں ، یعنی البا ب الاول ،الثانی وغیرہ لکھنا ۔ جب اور غور سے پڑھا تو معلو م ہوا کہ یہ شخص تقدیر کے مسئلہ میں بھی اہل سنت کے مسلک کا قائل ہی نہیں ،پھر اور یقین ہوگیا کہ یہ ابن تیمیہ کی کتا ب نہیں ہے ۔اس طرح لوگوں نے بیچنے کی نیت سے کیا ہے،اسی طرح ابن تیمیہ کسی بھی تحریر میں تاریخ بالکل بھی نہیں لکھتے ہیں ۔ماہ سال وغیرہ کچھ بھی نہیں ،بس وہ لکھتےہیں کتبہ ابن تیمیہ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ایک او ر دلچسب واقعہ سن لیجئے ایک مرتبہ عبد الرحمٰن السدیس صاحب کے یہاں گیا ،با ت چیت ہوئی میں نے کہا کہ ابن تیمیہ کی بھی کوئی کتاب آپ کے پاس ہے ، تو انہوں نے دکھایا کہ ہاں ہےیہ دیکھ لیجئے ، میں نے دیکھ کرکے کہا کہ یہ ابن تیمیہ کی کتاب نہیں ہے ،یہ ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی نہیں ہے ، وہیں جامع المسائل رکھی ہوئی تھی ، میں نے نکا ل کرکے دکھایا’’ قاعدہ فی الاستحسان‘‘ اور’’فتوی فی الغوث والابدال‘‘ وغیرہ ،پھر میں نے کہا کہ دونوں دیکھئے کہ کتنا فرق ہے ۔
    حواشی و اضافات ۔آفا ق احمد السنابلی المدنی
    (۱)جامع المسائل-(1تا9). تحقيق: جـ 1 – 6، 8 (محمد عزير شمس)، جـ 7 (علي بن محمد العمران)، جـ 9 (عبد الرحمٰن بن حسن قائد)
    راجعہ: جـ 1 – 4، 7 (سليمان بن عبد الله العمير، محمد اجمل الاصلاحی)، جـ 5، 6 (سليمان بن عبد الله العمير، جديع بن محمد الجديع، محمد اجمل الاصلاحی)، جـ 9 (سليمان بن عبد الله العمير، علی بن محمد العمران) الناشر: دار عطاءات العلم (الریاض) – دار ابن حزم (بيروت)۔
    یہ مجموعہ 9 جلدوں پر مشتمل ہے۔اسے علامہ عزیر شمس رحمہ اللہ اور ان کی ٹیم نے مرتب کیا ہے۔ یہ شیخ الاسلام کے غیر مطبوعہ فتاویٰ کامجموعہ ہے ،بعض بڑے نادر فتاویٰ اس مجموعہ میں شامل ہیں ،بلکہ طلاق ثلاثہ کے بارے میں امام موصوف کا جو مبنی برحق نقطہ نظر ہے،پہلی با ر اسی مجموعہ سے وہ ہمارے سامنے آیا ہے ، اب تک ہم امام ابن قیم جوزیہ رحمہ اللہ کی کتابوں سے امام موصوف کے نقطۂ نظر کو پڑھ رہے تھے ۔
    جلد اول میں شامل مسائل: محقق-1-فصل في معنى “الحيّ القيوم”-2- قاعدة جليلة في إثبات علوّ الله تعالى على جميع خلقه۔3- فتوى فيمن يدعي أن ثَمَّ غوثًا وأقطاباً وأبدالاً۔4- فصل في أولياء الله وأولياء الشيطان۔5- مسألة عن الأحوال وأرباب الأحوال۔6- مسألة في رؤية النبي صلى الله عليه وسلم ربه۔7- قاعدة شريفة في تفسير قوله (أغير الله أتخذ وليا فاطر السماوات والأرض وهو يطعم ولا يطعم) (كتبها بقلعة دمشق في آخر عمره)۔8-فصل في سورة حم السجدة [فصلت]۔9-مسألة في قول النبي صلى الله عليه وسلم لمعاذ: “أتدري ما حقُّ الله على العباد؟ “۔10-فصل في قوله صلى الله عليه وسلم: سيد الاستغفار أن يقول العبد “‌‌اللهم أنت ربي لا إله إلاّ أنت … “-11-قاعدة في الصبر۔12-مسألة في الفُتُوَّة وآدابها وشرائطها۔13-مسألة فيما يفعله بعض الخطباء يوم الجمعة۔14-قاعدة في أفعال الحج۔15-فتوى في البيع بفائدةٍ إلى أجل۔16-مسائل في الإجارة ونقص بعض المنفعة والجوائح، والفرق بين الجائحة في الثمر والزرع وغير ذلك۔17-فصل في الطلاقِ، وتقسيمِه إلى سنّي وبدعيّ، وبيانِ أن الطلاقَ البدعيَّ لا يقع۔ من كلام شيخ الإسلام تقي الدين أبي العباس أحمد بن تيمية مما كتبه في القلعة بدمشق في آخر عمره رحمة الله عليه۔18- فتوى في طلاق السنة وطلاق البدعة۔19- فصل في جمع الطلاق الثلاث،20- فصل في الأحاديث الواردة في الطلاق الثلاث۔21۔ فصل في الطلاق الثلاث۔22- فتوى في الطلاق الثلاث بكلمة واحدة۔23۔ فصل في الإيلاء، من كلام الإمام العلامة شيخ الإسلام تقي الدين ابن تيمية رحمة الله عليه، كتبه أخيرًا بقلعةِ دمشق۔24- فصل في الظِّهار۔
    جلد دوم میں شامل مسائل: محقق-1 – فتوى في الغوث والقطب والأبدال والأوتاد. 2 – قاعدة في الاستحسان. 3 – قاعدة في شمول النصوص للأحكام.
    جلد سوم میں شامل مسائل: محقق-1- فصل في الفرق بين ما أمر الله تعالى به ورسولُه من إخلاص الدين لله وشريعته، وبين ما نهى عنه من الإشراك والبدع في زيارة القبور ونحو ذلك۔2- فصل في حقّ الله وحقّ عبادته وتوحيده۔3- رسالة إلى المنسوبين إلى التشيع وغيرهم في العراق ومشهد المنتظر۔4- مسألة في قصد المشاهد المبنية على القبور للصلاة عندها والنذر لها وقراءة القرآن وغير ذلك۔5- فتوى فيمن يُعظِّم المشايخ ويستغيث بهم ويزور قبورَهم۔6- مسألة في تأويل الآيات وإمرار أحاديث الصفات كما جاءت۔7- مسألة فيمن قال: إن نسبة البارئ تعالى إلى العلوّ من جميع الجهات المخلوقة۔8- مسألة في العلوّ۔9- قاعدة شريفة في الرضا الشرعي وما يحبّه الله من الرضا، وبيان أن الله لا يرضى بالكفر ولا يحبُّه ولا يشرعه، ولا يرضى بالمعاصي ولا يحبُّها ولا يُثيب فاعلها۔10- فصل الأقوال نوعان۔11- قاعدة في شمول آي الكتاب والسنة والإجماع أمرَ الثقلَين الجنِّ والإنسِ، وما يتعلق بهم من الخطاب وغيره۔12- مسألة فيمن قال: إن عليًّا أشجعُ من أبي بكر۔13- تفسير أول سورة العنكبوت۔14- مسألة في قوله تعالى: (وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ … )۔15- قاعدة حسنة في الباقيات الصالحات وبيان اقتران التهليل بالتكبير والتسبيح بالتحميد۔16- مسألة في إخوة يوسف هل كانوا أنبياء؟۔17- فتوى في قراءة القرآن بما يخرجه عن استقامته۔18- رسالة في قوله صلى الله عليه وسلم: “إذا دَخَل أحدكم على أخيه المسلم فأطعَمه طعامًا فليأكل من طعامه ولا يسأل عنه”۔19- جواب سؤال سائلٍ سألَ عن حرف “لو”۔20- فصل في مؤاخذة ابن حزم في الإجماع۔21- رسالة في بيان الصلاة وما تألَّفتْ منه۔22- فتوى في أمر الكنائس،23- مسألة فيمن يسمِّي الخميس عيدًا۔24- فصل في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر۔25- مسألة في تلاوة القرآن والذكر، أيهما أفضل۔26- فتوى في السماع۔27- مسألة في رجلٍ شتَم شريفًا۔28- قاعدة في حضانة الولد۔
    جلد چہارم میں شامل مسائل: محقق-1- ‌‌مسائل من الفتاوى المصرية۔(اس میں کل 67مسائل ہیں )۔2- ‌‌مسائل وردت من الصلت۔(اس میں کل 26مسائل ہیں )۔3- ‌‌مسائل متفرقة۔(اس میں کل 17مسائل ہیں )۔
    جلد پنجم میں شامل مسائل: محقق-1- ضابط التأويل۔2- قاعدة في الوسيلة۔3- الفُتيا الأزهرية (في مسألة كلام الله)۔4- فتوى في الخضر۔5- سؤال في يزيد بن معاوية۔6- فصل في اسمه تعالى “القيُّوم”۔7- فصل في معنى “الحنيف”۔8- مسألة فيما إذا كان في العبد محبة لما هو خير وحق ومحمود في نفسه۔9- فصل في انتفاع الإنسان بعمل غيره۔10- رسالة في اتباع الرسول صلى الله عليه وسلم -11- شرح حديث “لا يَزني الزاني حينَ يَزني وهو مؤمنٌ”۔12- فصل في قوله صلى الله عليه وسلم: أصدقُ كلمةٍ قالها شاعر كلمة لبيد: ألَا كلُّ شَيءَ مَا خَلَا اللهَ باطِلُ۔13- المسألة الخلافية في الصلاة خلف المالكية۔14- رسالة إلى السلطان الملك المؤيَّد۔15- رسالة إلى السلطان الملك الناصر في شأن التتار۔16- قاعدة في الانغماس في العدوّ وهل يُباح؟۔17- مسألة في المرابطة بالثغور أفضلُ أم المجاورة بمكة؟۔18- قاعدة في الأموال السلطانية۔
    جلد ششم میں شامل مسائل: محقق-1-قاعدةٌ في الإخلاص لله تعالى۔2۔فصل في حق الله على عباده وقِسْمِه من أم القرآن، وما يتعلق بذلك من محبته وفرحه ورضاه ونحو ذلك۔3۔فصل في صفات المنافقين۔4۔فصل في التوحيد۔5۔فصل في أن التوحيد الذي هو إخلاص الدين لله أصل كل خير من علم نافع وعمل صالح۔6۔قاعدة في إرادة العدم والإعدام واستطاعته وفعله۔7۔فصل في الإسلام وضدّه۔8۔مسألة في مقتل الحسين وحكم يزيد۔9۔مسألة في الاستغفار۔10۔مسائل في الصلاة۔11۔فصل في الصلاة الوسطى۔12۔فصل في المواقيت والجمع بين الصلاتين۔13۔مسألة في رجل فقير وعليه دين، هل لأخيه الغني دفع الزكاة إليه؟۔14۔مسألة في التسمية على ذكاة الذبيحة وذكاة الصيد۔15۔مسألة في أكل لحم الضبع والثعلب وسنور البرّ وابن آوى وجلودهم۔16۔مسألة في الشاة المذبوحة ونحوها، هل يجوز بيعها دون الجلد؟۔17۔مسألة في إجارة الإقطاع۔18۔مسألة في ضمان البساتين والأرض۔
    جلد 7 میں شامل مسائل: محقق-1‌‌مسائل أهل الرَّحبة لشيخ الإسلام ابن تيمية۔2- القَرَمانية [ق 53] جواب فُتيا في لبس النبي صلى الله عليه وسلم -3۔‌‌قاعدة في الفَنَاء والبَقَاء۔4۔‌‌الرسالة في أحكام الولاية۔5۔‌‌كتاب الشيخ إلى بعض أهل البلاد الإسلامية۔6۔كتاب الشيخ إلى الأمير شمس الدين سُنْقرچاه۔7۔ ‌‌صورة كتاب عن ابن عربي والاعتقاد فيه۔8۔ مسألة فيمن يقول: إن عليَّ بن أبي طالب أولى بالأمر من أبي بكر وعمر۔9۔ مسألة في تفسير قوله تعالى: {أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ .. } وتفسير آيات أخرى۔10- مسألة في قوله صلى الله عليه وسلم: “لا عدوى ولا طِيَرة … ” وتسع مسائل أخرى۔11۔ ‌‌مسألة في الرَّمي بالنُّشَّاب۔12۔ مسألة في قوله تعالى: {فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي} ومسائل أخرى مختلفة۔13۔ ‌‌[مسائل فقهية مختلفة]۔14۔ ‌‌مسألة في باب الصفات هل فيها ناسخ ومنسوخ أم لا؟۔15۔‌‌مسألة: في قول أبي حنيفة في “الفقه الأكبر” في الاستواء۔16۔ ‌‌مسألة في العلو۔17۔ معنى حديث: «من تقرَّب إليَّ شِبرًا … »۔18۔ ‌‌مسألة في إثبات التوحيد والنبوات بالنقل الصحيح والعقل الصريح۔19۔ ‌‌قاعدة مختصرة في الحُسْن والقُبْح العقليين۔20۔ مسألة في عقيدة أهل گيلان۔21۔ ‌‌مجموعةُ فتاوى من: الدُّرَّةِ المضِيَّة في فتاوى ابنِ تيميَّة انتقاها ابن عبد الهادي۔22۔ ‌‌مسألة في زيارة القدس أوقات التعريف۔23۔ مَسْألة في عَسْكَر المنصور المتوجِّه إلى الثغور الحلبية سنة 715 هـ۔24۔ ‌‌صورة مكاتبة الشيخ تقي الدين للسلطان الملك المنصور حسام الدين لاجين سنة ثمان وتسعين وستمائة۔25۔ [مسألة في الداء والدواء]۔26۔ رسالة في الكلام في الحلَاّج۔27۔ ‌‌فصل فيما يجمع كليات المقاصد۔28۔ ‌‌[مسائل فقهية مختلفة]۔29۔ مجموعة فتاوى مختلفة۔
    جلد8میں شامل مسائل: محقق-1۔ فصول وقواعد (من مسوّدات شيخ الإسلام ابن تيمية)۔ 2۔فصل في الكلام على النِّعم، وهل هي للكفار أيضًا۔3- ‌‌فصل في آية الربا۔4- ‌‌فصل في أنه ليس في القرآن لفظة زائدة لا تفيد معنى۔5۔ ‌‌فصل في توبة قوم يونس۔6۔ ‌‌مسألة عن رجل يزعم أنه شيخٌ ويتوِّب الناس ويأمرهم بأكل الحيَّة۔7- سُئل شيخ الإسلام أبو العباس ابن تيمية عن نسبته إلى الخرقة۔8۔ ‌‌مسألة في الحضانة۔9۔ ‌‌مسائل مختلفة۔
    جلد9میں شامل مسائل: محقق-1۔ ‌‌فصل في”الكلام” الذي ذمَّه الأئمَّة والسَّلف۔2۔ ‌‌مسألة في مذهب الشافعي في القرآن وكلام الله۔3- ‌‌مسألة في الأولياء والصالحين والأقطاب والأبدال ورجال الغيب۔4- مسألة
    في الخَضِر وحياته وادعاء لقائه۔5۔ رسالة إلى الشيخ قطب الدين ناظر الجيش في الكلام عن ابن عربي وطائفته۔6۔ ‌‌فصل في الكلام على الاتحادية۔7۔ ‌‌مسألة في الأفعال الاختيارية من العباد۔8۔ فصل في الكلام على حديث “اللهم إني عبدُك ابن عبدُك ابن أمتك …۔9۔ فصلان في الإنذار ولوازمه والخوف والرجاء والشفاعة۔10۔ ‌‌مسائل عقدية۔11۔ فصلٌ في تفسير قوله تعالى: {تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ}۔12۔ ‌‌مسألة في تفسير استعاذة النبي صلى الله عليه وسلم من الهمِّ والحزن، والعجز والكسل ، والبخل والجبن، وضِلَع الدَّين وغلبة الرجال۔13۔مسألة في التوبة هل تُسْقِط قضاء الفرائض؟۔14۔ ‌‌مسائل فقهية۔15۔ ‌‌قاعدة في الصبر والشكر۔16۔ ‌‌مسألة في الانتماء إلى الشيوخ۔17۔ رسالة إلى ابن ابن عمِّه عزِّ الدين عبد العزيز بن عبد اللطيف بسبب فتح جبل كسروان ۔18۔ ‌‌مسائل متفرقة۔
    (۲) جس میں پہلا مجموعہ 16 رسالوں پر اور دوسرا مجموعہ3 رسالوں پر مشتمل ہے۔ پہلا مجموعہ :1- رِسَالَة فِي قنوت الْأَشْيَاء كلهَا لله تَعَالَى۔2- رِسَالَة فِي لفظ السّنة فِي الْقُرْآن۔3- رِسَالَة فِي قصَّة شُعَيْب عَلَيْهِ السَّلَام۔4- رِسَالَة فِي الْمعَانِي المستنبطة من سُورَة الْإِنْسَان۔5- رِسَالَة فِي قَوْله تَعَالَى وَاسْتَعِينُوا بِالصبرِ وَالصَّلَاة۔6- رِسَالَة فِي تَحْقِيق التَّوَكُّل۔7- رِسَالَة فِي تَحْقِيق الشُّكْر۔8- رِسَالَة فِي معنى كَون الرب عادلا وَفِي تنزهه عَن الظُّلم۔9- رِسَالَة فِي دُخُول الْجنَّة، هَل يدْخل أحد الْجنَّة بِعَمَلِهِ، أم ينْقضه قَوْله صلى الله عليه وسلم، لَا يدْخل أحد الْجنَّة بِعَمَلِهِ۔10- رِسَالَة فِي الْجَواب عَمَّن يَقُول إِن صِفَات الرب نسب وإضافات وَغير ذَلِك۔11- رِسَالَة فِي تَحْقِيق مَسْأَلَة علم الله۔12- رِسَالَة فِي الْجَواب عَن سُؤال عَن الحلاّج هَل كَانَ صدّيقًا أَو زنديقًا۔13- رِسَالَة فِي الرَّد على ابْن عَرَبِيّ فِي دَعْوَى إِيمَان فِرْعَوْن۔14- رِسَالَة فِي التَّوْبَة۔15- فصل فِي أَن دين الْأَنْبِيَاء وَاحِد۔16- فصل فِي الدَّلِيل على فضل الْعَرَب۔
    دوسرا مجموعہ :1- رِسَالَة فِي الصِّفَات الاختيارية۔2- شرح كَلِمَات من “فتوح الْغَيْب۔3- قَاعِدَة فِي الْمحبَّة۔
    جاری …..

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings