Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ قسط :(22)

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اذکار کے باب میں لکھی گئی مشہور و معروف کتاب’’الکلم الطیب‘‘ کا تعارف پیش خدمت ہے:
    نسبت ِکتاب: چونکہ اس کتاب کے اندر بعض ضعیف احادیث ہیں ،اس وجہ سے کچھ لوگوں کو یہ شبہ ہوا کہ یہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب نہیں ہے ، لیکن ایسا نہیں ہے ،بلکہ کئی ایک جہت سے اس کتاب کی نسبت کی توثیق ابن تیمیہ کی جانب ہوتی ہے۔اس کتاب کے جتنے مخطوطات موجود ہیں ان تمام میں شیخ الاسلام رحمہ اللہ کاہی نام ملتا ہے۔
    جہاں تک مسئلہ شیخ الاسلام کے اس کتاب میں ضعیف احادیث کے ذکر کرنے کا ہے تو اس کا جواب علامہ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے اس کتاب کے مقدمہ میں دیاہے ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    (۱)بعض احادیث کےضعف کی طرف شیخ الاسلام نے صیغہ تمریض کے ذریعہ ذکرکرکے اشارہ کردیا ہے ،اسی طرح عین ممکن ہے کہ وہ حدیث ان کے یہاں ضعیف کے درجہ پر نہ ہو،اس وجہ سے صرف تخریج پر انہوں نے اکتفا کیاہو۔
    (۲) کسی حدیث کے صحت و ضعف اور حسن قرار دینے کے لیے ممکن ہے انہیں اس حدیث پر دراسہ کے لیے وقت نہ ملا ہو ، اس وجہ سے انہوں نے متقدمین کے حکم پر اکتفا کیا ہو۔
    (۳)ممکن ہے شیخ الاسلام نے امام نووی کی کتاب الاذکار کا اختصار کیاہو اور احادیث کے سلسلہ میں امام نووی کا طریقہ اپنا یا ہو ۔
    کتاب کی اہمیت : شیخ الاسلام نے اپنی اس کتاب کے اندر انسانی زندگی کے روز مرہ کے ذکر و اذکار اور فضائل کو بیان کیاہے۔انسانی زندگی میں ذکر و اذکار کی جو اہمیت ہے اسےکتاب و سنت کی روشنی میں بڑی آسانی کے ساتھ سمجھا جاسکتاہے ۔ایک انسان کو شیطانی حملوں اور گمراہ کن خیالات سے محفوظ رکھنے میں ذکر و اذکا ر کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ذکر و اذکار سے سکو ن قلب اور رب کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ انسان مختلف حادثات اور فتنوں سے مامون رہتا ہے۔
    کتاب کا موضوع : کتاب کا مرکزی موضوع اذکار (یادِ الٰہی) ہے اور اس میں درج ذیل امور سے متعلق دعائیں و اذکار شامل کیے گئے ہیں: صبح و شام کے اذکار، سوتے وقت کے اذکار. جاگنے کی دعا، کھانے سے پہلے اور بعد کی دعا، نماز کے بعد کے اذکار، وضو اور غسل سے متعلق اذکار، سفر کی دعائیں، مریض کی عیادت اور دعا، خوف، غم اور پریشانی کی دعائیں، استخارہ کی دعا، استغفار اور توبہ کے اذکار، دعا کے آداب اور قبولیت کے اسباب، نفع و ضرر کے وقت کی دعائیں،بارش، آندھی، بجلی وغیرہ کے مواقع کی دعائیں، عبادات کے بعد کے اذکار، قبروں کی زیارت کی دعا اور حسنِ خاتمہ کی دعائیں وغیرہ۔
    فوائد علمیہ :
    اس کتاب کے اندر شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے ذکر و اذکار کے فوائد اور روز مرہ کے ذکر و اذکار بیان کئے ہیں ،اس اعتبار سے چند دعاؤں اور ذکر و اذکار کے فضائل بیان کئے جارہے ہیں ۔
    (۱) عن عبد الله بن بسر: أن رجلا قال: يا رسول الله إن شرائع الإسلام قد كثرت علي فأخبرني بشيء أتشبث به. قال: لا يزال لسانك رطبا من ذكر الله تعالى۔
    [أخرجه الترمذي :3375،صحيح]
    ترجمہ: عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اسلام کے احکام و قوانین تو میرے لیے بہت ہیں، کچھ تھوڑی سی چیزیں مجھے بتا دیجیے جن پر میں (مضبوطی) سے جما رہوں، آپ نے فرمایا: تمہاری زبان ہر وقت اللہ کی یاد اور ذکر سے تر رہے۔
    (۲) عن أبي موسى الأشعري رضي الله عن هـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: مثل الذي يذكر ربه والذي لا يذكر ربه مثل الحي والميت۔
    ترجمہ: ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی ہے۔
    [صحيح بخاري :6407]
    (۳) قال عثمان بن عفان رضي الله عنه: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من عبد يقول في صباح كل يوم ومساء كل ليلة: بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم ثلاث مرات لم يضره شيء۔
    [أخرجه الترمذي:3388،صحيح]
    ترجمہ: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو ہر روز صبح و شام کو’’بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم‘‘میں اس اللہ کے نام کے ذریعہ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سننے والا جاننے والا ہے، تین بار پڑھے تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاسکتی ہے۔
    (۴) عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من قرأ الآيتين من آخر سورة (البقرة) في ليلة كفتاه۔
    ترجمہ: ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس نے سورۃ البقرہ کی دو آخری آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اسے ہر آفت سے بچانے کے لیے کافی ہو جائیں گی۔
    [صحیح بخاری:5009]
    (۵) عن جابر رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا رأى أحدكم الرؤيا يكرهها فليبصق عن يساره ثلاثا وليستعذ بالله من الشيطان ثلاثا وليتحول عن جنبه الذي كان عليه۔
    ترجمہ : جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور جب تم برا خواب دیکھو تو اللہ کی اس کے شر سے پناہ مانگے اور شیطان کے شر سے اور تین مرتبہ تھوتھو کر دو اور اس کا کسی سے ذکر نہ کرو پس وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
    [صحيح بخاري: 7044]
    (۶)عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ينزل ربنا كل ليلة إلى السماء الدنيا حتى يبقى ثلث الليل الأخر فيقول: من يدعوني فأستجيب له ومن يسألني فأعطيه ومن يستغفرني فأغفر له۔
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ہمارا پروردگار ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں ،کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔
    [صحيح بخاري: 1145]
    (۷)قال أنس رضي الله عنه قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا بني إذا دخلت على أهلك فسلم يكن بركة عليك وعلى أهل بيتك۔
    انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: بیٹے! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کیا کرو، یہ سلام تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے خیر و برکت کا باعث ہو گا۔
    [ ترمذی :حدیث: 2698،حسن صحيح]
    (۸)قال أبو هريرة رضي الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو يعلم الناس ما في النداء والصف الأول ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا عليه لاستهموا۔
    [أخرجه البخاري:2689]
    ترجمہ :ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان اور صف اول میں کتنا ثواب ہے اور پھر (انہیں اس کے حاصل کرنے کے لیے) قرعہ اندازی کرنی پڑتی، تو وہ قرعہ اندازی بھی کرتے‘‘۔
    (۹) قال أبو سعيد: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يسمع مدى صوت المؤذن جن ولا إنس ولا شيء إلا شهد له يوم القيامة۔
    [صحيح بخاري:609]
    ترجمہ :ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے:’’ جن و انس بلکہ تمام ہی چیزیں جو موذن کی آواز سنتی ہیں قیامت کے دن اس پر گواہی دیں گی‘‘۔
    (۱۰ )عن ابن عباس رضي الله عنهماقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا وإني نهيت أن أقرأ القرآن راكعا أو ساجدا فأما الركوع فعظموا فيه الرب وأما السجود فاجتهدوا في الدعاء فقمن أن يستجاب لكم۔
    [صحیح مسلم:479]
    ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :’’ خبردار رہو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت و کبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو، (یہ دعا اس) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے‘‘۔
    سب سے پہلی طباعت : یہ کتاب سب سے پہلے برلین سے سنہ 1332ھ میں چھپی تھی ،لیکن اس میں بہت سی غلطیاں تھیں ،ساتھ میں تحریف اور تصحیف کا بھی مسئلہ تھا ۔
    اس کے بعد کئی ایک جگہوں سے اور بھی یہ کتاب چھپی ہے ، جس کی تفصیل نیچے موجود ہے۔
    ثانيها في مصر سنة (١٣٤٩) هـ وخرج أحاديثها الشيخ محمد البوسنوي المعروف بالخانجي ، والمتوفى سنة (١٣٦٥) هـ تقريباً في بلدة «سراي بوسنة » في يوغوسلافيا ، وله من العمر (٣٥) سنة تقريباً رحمه الله تعالى وقد قابلها على « العلم الهيب في شرح الكلم الطيب » للامام بدر الدين أبي محمد العيني المتوفى سنة (٨٥٥)
    وثالثها في مصر أيضاً سنة (١٣٥٢)هـ بتحقيق الشيخ محمد منير الدمشقي رحمه الله تعالى
    ورابعها في دمشق سنة ( ١٣٨٥ ) هـ بتحقيق الشيخ محمد ناصر الدين الألباني
    وخامسها هذه الطبعة التي نقدمها للناس۔
    (شیخ الارناوط کی تحقیق والے نسخہ سے یہ سب باتیں لی گئی ہیں )۔
    شروحات، مختصرات، تحقیقات :
    (۱)العلم الهيب في شرح الكلم الطيب تاليف بدر الدين أبي محمد محمود بن أحمد العيني الحنفي۔
    (۲)صحیح الکلم الطیب للشیخ الالبانی، اس تحقیق میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے تقریباً چالیس احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
    (۳) شرح كتاب الكلم الطيب لشيخ الإسلام ابن تيمية – الشيخ عبد الرزاق بن عبد المحسن البدر حفظہ اللہ۔یہ آڈیو میں ہے۔
    (۴) شیخ رسلان حفظہ اللہ کی بھی شرح ہے جو آڈیو میں ہے۔
    (۵) إتحاف الذاكرين بصحيح أذكار الكلم الطيب المؤلف:إسلام محمود دربالة. عدد الصفحات: 79۔
    (۶)المزن الصيب في شرح صحيح الكلم الطيب۔أبو أسيد الشيباني.عدد الصفحات :441
    (۷)الكلم الطيب لابن تيمية، دراسة وتحقيق طارق الطنطاوي – القاهرة : مكتبة القرآن
    (۸)الكلم الطيب لابن تيمية ، تحقيق عبد الله محمد سالم
    (۹)الكلم الطيب-ابن تيمية-ت الأرناؤوط
    (۱۰) الكلم الطيب-حققه وخرج أحاديثه الدكتور رفعت فوزى عبد المطلب
    (۱۱) امام ابن قیم الجوزیہ نے اس کا اختصار کر کے مشہور کتاب’’الوابل الصیب من الکلم الطیب‘‘ لکھی۔ ذکرالٰہی کے نام سے اس کا اردو میں بھی ترجمہ ہے۔ناشر ،الدارالسلفیہ ممبئی ۔
    جاری ……..

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings