Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • دعائے شب قدر’’اللھم إنك عفو تحب العفو فاعف عني‘‘ کی تحقیق (آخری قسط)

    موقوف روایت کی تحقیق: اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت مرفوعاً ثابت ہے جس پر ماقبل میں سیر حاصل بحث کی جاچکی ہے ۔تقریباً اس سے ملتی جلتی اور اجمالی شکل میں ایک روایت اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً بھی مروی ہے ۔
    موقوف روایت اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے درج ذیل طرق سے مروی ہے:
    پہلا طریق (از مسروق):
    امام نسائی رحمہ الله (المتوفی303ھ)نے کہا:أخبرنا أحمد بن سليمان قال حدثنا يزيد قال أخبرنا حميد عن عبد الله بن جبير وكان شريك مسروق على السلسلة عن مسروق عن عائشة رضي الله عنها قالت : ’’لو علمت أي ليلة ليلة القدر لكان دعائي فيها أن أسأل الله العفو والعافية‘‘۔
    ”اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میری دعا اس میں یہی ہوتی کہ میں اللہ سے عفو (معافی) اور عافیت (سلامتی و تندرستی) مانگوں‘‘۔
    [سنن النسائي الكبرىٰ 10714،عمل اليوم والليلة 878]
    یہ سند ضعیف ہے۔ اس میں موجود ”عبد الله بن جبير“ نامعلوم ہے ۔ نہ اس کے احوال کا کچھ پتہ ہے اور نہ توثیق ہے ۔ لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔
    دوسرا طریق (ازحسن بصری):
    ابو بکر النجاد (المتوفی348ھ) نے کہا:
    أخبرنا عثمان، قال: حَدَّثَنا يَحْيَى بن أبي طالب أخبرني معروف أبو محفوظ العابد، حَدَّثنِي الربيع بن صبيح عن الحسن عن عائشة قالت:’’لو أدركت ‌ليلة ‌القدر ‌ما ‌سألت ‌الله الا العفو والعافية‘‘۔
    ”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر میں شب قدر کو پا لیتی تو میں اللہ سے عفو (معافی) اور عافیت (سلامتی، تندرستی ) کے سوا کچھ نہ مانگتی“۔
    [ذكر من له الآيات ص19 بترقيم الشاملة وأخرجه الخطيب البغدادي في (تاريخ بغداد ت بشار) (3162) ، و (7129) من طريق يحيي به وانظر : سير أعلام النبلاء 9/ 345]
    یہ سند بھی ضعیف ہے۔
    سند میں موجود ”الربيع بن صبيح“ ضعیف ہے ۔ اس کے بارے میں محدثین کے اقوال اور مکمل تفصیل کے لیے دیکھئے ہماری کتاب: [انوار البدر ص 722 تا 728 آخری ایڈیشن]
    نیز سند بھی منقطع ہے، حسن بصری کا اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے ۔
    تیسرا طریق (از شریح بن ہانی):
    امام ابن ابی شيبہ رحمہ الله (المتوفی235ھ)نے کہا:
    حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن العباس بن ذريح عن شريح بن هانئ عن عائشة قالت: ’’إني لو ‌عرفت ‌أي ‌ليلة ‌ليلة ‌القدر ما سألت الله فيها إلا العافية‘‘۔
    ”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر میں جان لیتی کہ کون سی رات شب قدر ہے تو میں اس میں اللہ سے عافیت (سلامتی، تندرستی ) کے سوا کچھ نہ مانگتی۔“
    [ مصنف ابن أبي شيبة 16/ 118 وأخرجه البيهقي في ”الشعب“ (5/ 282) من طريق أبي معاويه به ، وأخرجه الحاكم ( معرفة علوم ص: 268 )
    فقال: حدثنا جعفر بن محمد بن نصير الخلدي قال حدثنا أحمد بن محمد بن الحجاج بن رشدين قال حدثنا يوسف بن عدي قال حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن أبي إسحاق الشيباني به]
    ابومعاویہ یعنی محمد بن خامز کوفی کو بعض اہل علم نے مدلس قراردیاہے۔
    اور شیخ زبیر علی زئی نے اسے تیسرے طبقہ کا مدلس کہا ہے، دیکھیں : [طبقات المدلسين ت علي زئي: ص: 80]
    اور حاکم کی سند میں ”عبد الرحمٰن بن محمد المحاربی“ نے ابومعاویہ کی متابعت کی ہے ۔
    مگر اسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی تیسرے طبقہ کا مدلس بتایا ہے۔ دیکھیں: [طبقات المدلسين ت علي زئي: ص: 99]
    یعنی شیخ زبیر علی زئی صاحب کی شرط پر یہ سند بھی ضعیف ہے ۔
    یاد رہے کہ حاکم کی سند میں ”احمد بن محمد بن الحجاج بن رشدين“ بھی ضعیف ہے۔
    لیکن ہماری نظر میں یہ سند صحیح ہے ۔
    کیونکہ ابومعاویہ دوسرے طبقہ کا مدلس ہے یعنی قلیل التدلیس ہے اور ایسے مدلسین کا عنعنہ مقبول ہوتا ہے جیساکہ ہم نے اپنے کتاب ”انوار البدر“ میں اس کی مکمل تفصیل پیش کی ہے۔
    خلاصۂ بحث یہ کہ:
    موقوف روایت بھی صحیح وثابت ہے۔مگر موقف روایت میں دعا کے کوئی الفاظ ماثور نہیں ہیں ۔
    جبکہ مرفوع حدیث میں اللہ کے نبی ﷺ سے اس دعا کے الفاظ ثابت ہیں ، اور یہ چیز مرفوع حدیث کی بہت اہم خصوصیت ہے ۔
    فائدہ: ترمذی والی مرفوع حدیث میں بعض نسخوں میں ”عفو“ کے بعد ’’کریم“ کا اضافہ ہے جوغلط ہے۔ اور ترمذی کا ایک نسخہ جس میں یہ اضافہ ہے اس میں علامہ البانی رحمہ اللہ سے صحیح کا حکم نقل کیا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس لفظ کے اضافہ والی روایت کو بھی صحیح قرار دیا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ۔
    بلکہ اس کے برعکس علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس پر تنبیہ کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے، چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ اس حدیث کی تخریج کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
    (تنبيه): وقع في سنن الترمذي بعد قوله: عفو زيادة: كريم ! ولا أصل لها في شيء من المصادر المتقدمة، ولا في غيرها ممن نقل عنها، فالظاهر أنها مدرجة من بعض الناسخين أو الطابعين؛ فإنها لم ترد في الطبعة الهندية من سنن الترمذي التي عليها شرح تحفة الأحوذي للمباركفوري (4/ 264) ، ولا في غيرها. وإن مما يؤكد ذلك: أن النسائي في بعض رواياته أخرجه من الطريق التي أخرجها الترمذي، كلاهما عن شيخهما (قتيبة بن سعيد) بإسناده دون الزيادة.وكذلك وقعت هذه الزيادة في رسالة أخينا الفاضل علي الحلبي: مهذب عمل اليوم والليلة لابن السني (95/202) ، وليست عند ابن السني؛ لأنه رواه عن شيخه النسائي- كما تقدم- عن قتيبة، ثم عزاه للترمذي وغيره! ولقد كان اللائق بفن التخريج أن توضع الزيادة بين معكوفتين كما هو المعروف اليوم، وينبه أنها من أفراد الترمذي. وأما التحقيق فيقتضي عدم ذكرها مطلقا؛ إلا لبيان أنه لا أصل لها، فاقتضى التنبيه.
    ”سنن الترمذی میں ”عفو“ کے بعد ’’کريم“ کا اضافہ ہو گیا ہے! اس کی کوئی اصل نہیں ہے نہ تو پرانے مصادر میں، نہ ہی ان کے علاوہ جنہوں نے اس سے نقل کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بعض نساخ (کاپی کرنے والوں) یا پرنٹرز کی طرف سے اضافہ کیا گیا ہے۔کیونکہ یہ لفظ سنن الترمذی کے ہندوستانی ایڈیشن(جلد 4، صفحہ 264)،میں نہیں ہے جس پر تحفۃ الاحوذي یعنی مولانا عبد الرحمٰن مبارکپوری کی شرح ہے نہ ہی دیگر ایڈیشنز میں۔اس کی مزید تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ امام نسائی نے اپنی بعض روایت میں اسے ترمذی ہی کے طریق سے نقل کیا ہے، اور دونوں نے اپنے شیخ قتيبہ بن سعيد سے، اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے بغیر اس اضافی لفظ کے۔
    اسی طرح یہ اضافہ ہمارے بھائی فاضل علی الحلبي کے رسالہ مهذب عمل اليوم والليلة لابن السني (صفحہ 95/202) میں بھی آگیا ہے، حالانکہ ابن السنی کے اصل میں یہ نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے اسے اپنے شیخ نسائی سے نقل کیا ہے (جیسا کہ پہلے گزرا) قتیبہ سے، پھر اسے ترمذی اور دیگر کی طرف منسوب کیا! اور تخریج کے فن کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس اضافہ کو معکوفین (یعنی ) میں لکھا جاتا جیسا کہ آج کل رائج ہے، اور پھر تنبیہ کی جاتی کہ یہ صرف سنن ترمذی میں ہے ۔ لیکن اصل تحقیق کا تقاضا یہ ہے کہ اسے بالکل ذکر نہ کیا جائے، الایہ کہ یہ بتانا مقصود ہو کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے اس لیے اس امر پر ہم نے تنبیہ ضروری سمجھی‘‘۔
    [سلسلة الأحاديث الصحيحة 7/ 1012]

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings