Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • امام مہدی کے متعلق لوگوں کے آراء وافکار

    قیامت کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی ’’امام مہدی کا ظہور‘‘ ہے ، جن کے بارے میں لوگوں کے افکار و نظریات مختلف ہیں، آئندہ سطور میں انہی کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔
    (۱) عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ہی دراصل امام مہدی ہیں۔
    اس بات کے قائلین کی دلیل سنن ابن ماجہ (۱) کی ایک حدیث ہے ، جس سے استدلال کرنا درست نہیں ہے ، اس حدیث کی مکمل تحقیق راقم کے مضمون ’’ حدیث’’ لا مھدي إلا عيسى بن مريم‘‘ کی تحقیق ‘‘ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ (۲) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سند کے اعتبار سے وہ حدیث ضعیف ہے ۔
    (۲) امام مہدی سے مراد کوفہ کا پہلا عباسی خلیفہ ابو العباس عبد الله السفاح بن محمد ہے ۔
    جس کے دور خلافت میں ابو مسلم خراسانی نے بنی امیہ پر چڑھائی کیاتھا اور غالب ہوا تھا ، اور یہی حدیث میں مذکور مہدی ہے جس کا زمانہ گزر چکا ہے ،اس بات کے قائلین کی دلیل مسند احمد کی ایک حدیث ہے ، ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ’’إِذَارَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ قَدْ أَقْبَلَتْ مِنْ خُرَاسَانَ فائتوها ولوحبوا على الثلج فإنه فِيھَا خَلِيفَةَ اللّٰهِ الْمَھدِيَّ‘‘۔ (۳)
    جب تم کالے جھنڈوں کو دیکھو جو خراسان سے آ رہے ہوں تو ان سے جا ملو گرچہ برف پر گھسٹ کر کے ہی کیوں نہ جانا ہو ، اس لیے کہ اس میں اللہ کا خلیفہ مہدی ہوگا ۔
    اس روایت کو متعدد اہل علم نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے ۔
    امام بیہقی نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ (۶؍۵۱۶)میں ، امام مقریزی نے’’ امتاع الاسماع‘‘ (۱۲؍۲۹۶) میں ، یوسف بن يحيیٰ السلمي’’ عقد الدرر فی اخبار المنتظر ‘‘(۱؍۱۹۲) میں ، حمود بن عبد الله التويجري’’إتحاف الجماعۃ بما جاء فی الفتن والملاحم واشراط الساعۃ (۲؍۳۰۴) میں ، امام سيوطي’’ الحاوي للفتاوي (۲؍۷۶) اور’’جامع الاحاديث‘‘ (۲؍ ۳۶۴) میں روایت کیا ہے ۔
    حدیث کا حکم : یہ روایت ضعیف ہے کیوں کہ حدیث کی سند میں ایک راوی ہے’’علی بن زید‘‘جس کے بارے میں علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ “وهو ضعيف وله مناكير‘‘ ’’علی بن زید ایک ضعیف راوی اور منکر روایت کرنے والا ہے، مزید لکھتے ہیں کہ’’فلا يحتج بما ينفرد به‘‘ ’’علی بن زید اگر منفرد روایت کرے تو اس کی روایت سے حجت نہیں پکڑی جائے گی ۔ (۴)
    امام ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ”أراه منكرا” میں اسے منکر سمجھتا ہوں۔ ( ۵)
    اور ابن جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ’’امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور یحییٰ ابن معین کہتے ہیں کہ علی بن زید’’ليس بشيء‘‘. وہ کوئی چیز نہیں ہے ( ۶)
    حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ’’ علی بن زيد بن جدعان‘‘ ضعیف راوی ہے ۔ (۷)
    جب روایت صحیح نہیں ہے تو استدلال کہاں سے درست ہوگا ۔
    مذکورہ روایت کے ہم معنیٰ ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں :
    عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُبَيْدَةَ عَنْ عبدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُول الله ﷺ: ’’إِذَا أَقْبَلَتِ الرَّايَاتُ السُّودُ مِنْ خُرَاسَانَ فَائْتُوهَا، فَإِنَّ فِيھَا خَلِيفَةَ الْمَھْدِيِّ‘‘. (۸)
    عمر بن قیس حسن سے روایت کرتے ہیں وہ عبیدہ سے وہ عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جب خراسان سے کالے جھنڈے والی جماعت نکلے ، تو اس سے جاملو ، اس لیے کہ اس میں اللہ کا خلیفہ ’’مہدی ‘‘ ہوگا ۔
    ابن جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
    هٰذَا حَدِيث لَا أَصْلَ لَهُ وَلَا نعلم أَن الْحَسَن سَمِعَ من عُبَيْدَة وَلا أَبِي عُمَر، سَمِعَ من الْحَسَن”۔ (۹)
    اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ حسن نے عبیدہ سے اور ابو عمر نے حسن سے سنا ہے۔
    محمد طاہربن علي الصديقی الہندي الفَتَّنِی (ت:۹۸۶ھـ) مذکورہ روایت کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ:
    ’’فيهِ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ لَا شَيْء وَلم يسمع من الْحسن وَلَا سمع الْحسن من عُبَيْدَة ۔۔۔‘‘ (۱۰)
    اس روایت میں ایک راوی ہے عمر بن قیس ، نہ تو اس نے حسن سے سنا ہے نہ حسن نے عیبدہ سے ۔
    امام ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ’’أراه منكرا‘‘ میں اسے منکر سمجھتا ہوں ۔ (۱۱)
    (۳) تیسرا موقف :
    روافض کا کہنا ہے کہ مہدی دراصل حسین بن علی کی اولاد سے محمد بن حسن العسکری ہیں۔ (۱۲)
    جن کو اہل تشیع مختلف القاب سے یاد کرتے ہیں ۔مثلاً المھدي، والحجة، والقائم، والخلف والسيد، والناحية المقدسة، والصاحب، وصاحب الزمان، وصاحب العصر (۱۳)
    جو کہ سامراء (شہر بغداد اور تکریت کے درمیان دریائے دجلہ کے مشرق میں واقع ہے )۔ (۱۴) کے ایک غار میں داخل ہوگئے ہیں اور اہل تشیع انہی کے منتظر ہیں ( سامراء : خلافت بنی عباسیہ کے دور میں ۲۲۱ھ سے ۲۸۹ھ تک دار الحکومت تھا ۔ (۱۵)
    (۴)چوتھا موقف :
    کچھ لوگوں نے امام مہدی کے متعلق ثابت جمیع احادیث کا انکار یہ کہتے ہوئے کیا ہےکہ وہ احادیث تنقید سے خالی نہیں ہیں ، اس بات کے قائلین نے معروف مؤرخ عبد الرحمان ابن خلدون کے قول سے اثر لیا ہے کہ مہدی سے متعلق احادیث ضعیف ہیں (۱۶)
    اہل علم کا رد :
    ابن خلدون کے موقف کی تردید کرتے ہوئے اہل علم کہتے ہیں :
    (۱) مہدی کے متلعق احادیث تواتر کے ساتھ ثابت ہیں۔
    (۲) ابن خلدون تاریخ کے باب میں اعلام میں شمار ہوتے ہیں اور حدیث ان کا میدان نہیں ہے ۔
    موجودہ دور میں جاوید غامدی بھی انہی میں سے ایک ہے جو امام مہدی سے متعلق احادیث کا منکر ہے، اپنا موقف بیان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہتا ہے کہ ’’قرآن میں ایسی کوئی بات نہیں ہے، کسی صحیح حدیث میں بھی ایسی کوئی بات نہیں ہے ،امام مہدی کے بارے میں جو کچھ بھی ہے لوگوں کی زبانوں پر ہے‘‘۔
    (https://youtu.be/j5AOH8ARjYc?si=6FN8KQ9pqG4Ge1gn )
    (۵) پانچواں موقف :
    تاریخ میں ایک گروہ ان لوگوں کا رہا ہے جنہوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔ ایسے لوگوں کی تاریخی اعتبار سے ایک لمبی فہرست ہے ۔ موجودہ دور میں جھوٹا مدعی مہدی و عیسیٰ شکیل ابن حنیف ہے ۔جو کہ بہار کا رہنے کا والا ہے ۔
    (۶)چھٹا موقف :
    امام مہدی اہل بیت میں سے علی بن حسن رضی اللہ عنہما کی اولاد میں سے ہوں گے جن کا ظہور اس زمانے میں ہوگا جبکہ روئے زمین ظلم و ستم سے بھر چکی ہوگی ، اور امام مہدی عدل وانصاف سے بھر دیں گے ۔ اور یہی احادیث رسول اللہ ﷺ کا خلاصہ ہے ۔یہی اہل سنت و الجماعت (سلفی منہج )کا موقف ہے ۔اس قول کی تائید میں دلائل تواتر کی حد کو پہونچی ہوئی ہیں۔
    تواتر کے قائلین اہل علم کے چند اقوال ملاحظہ فرمائیں :
    ابو الحسن الآبري السجستانی (ت :۳۶۳ھ) کہتے ہیں کہ:
    ’’وقد تواترت الأخبار واستفاضت عن رسول الله ﷺ بذكر المھدي وأنه من أهل بيته وأنه يملك سبع سنين وأنه يملأ الأرض عدلا وأن عيسىٰ يخرج فيساعده على قتل الدجال…..” (۱۷)
    امام مہدی کے بارے میں رسول اللہ ﷺسے تواتر کے ساتھ حدیثیں ثابت ہیں کہ وہ اہل بیت سے ہوں گے سات سالوں تک حکومت کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے…..‘‘ ۔
    محمد بن رسول البرزنجي الحسيني (۱۱۰۳ھ) کہتے ہیں کہ:
    ’’ آخری زمانے میں امام مہدی کا وجود اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہونے پر دلالت کرنے والی احادیث کو میں جانتا ہوںجو معنوی طور پر تواتر کو پہونچتی ہیں‘‘۔ (۱۸)
    ابو العون محمد بن احمد السفارینی الحنبلی (ت:۱۱۸۸ھ) کہتے ہیں کہ:’’امام مہدی کے تعلق سے احادیث بہت زیادہ ہیں یہاں تک کہ معنوی اعتبار سے تواتر تک پہنچ جاتی ہیں ، اور یہ چیز علمائے سنت کے درمیان بہت مشہور ہے یہاں تک کہ ان کے عقائد میں اسے شمار کیا جاتا ہے۔ (۱۹)
    شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ امام مہدی کے متعلق لوگوں کے افکار و نظریات کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ’’مہدی کے متعلق وسطیت ، اہل سنت والجماعت کا فہم اور موقف ہے ، جو مہدی کے ظہور کو نصوص صحیحہ کے تقاضے کے اعتبار سے ثابت مانتے ہیں‘‘ ۔ (۲۰)
    دکتور عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ نے اپنی کتاب:”عقيدة أهل السنة والأثر في المھدي المنتظر١/‏١٣٢‘‘ میں ایک بحث اسی پر کیا ہے کہ:’’ومن الذين حكوا تواتر أحاديث المھدي‘‘۔ ’’وہ لوگ جنہوں نے مہدی کے بارے میں احادیث کو تواتر کے ساتھ بیان کیا ہے ‘‘۔
    ان کے اسماء ذکر کرنے پر اکتفا کیا جا رہا ہے تفصیل کے لیے آپ کتاب کی طرف رجوع کر سکتے ہیں ۔
    (۱) محمد بن علي الشوکانی اليمنی (ت:۱۲۵۰ھ)
    (۲)ا بو الطيب محمد صديق خان القِنَّوجی (ت:۱۳۰۷)
    (۳)ابو عبد الله محمد بن جعفر الکتانی(ت:۱۳۴۵)’’نظم المتناثر:۱؍۲۲۷‘‘۔
    خلاصہ یہ ہے کہ امام مہدی کے متعلق احادیث تواتر کے ساتھ ثابت ہیں تقریباً ۲۶ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ظہور مہدی کی حدیث روایت کی ہے ۔ مہدی کا ظہور قرب قیامت کی ایک نشانی ہے۔ جس کو ماننا دراصل حدیث رسول کو ماننا ہے اور اس کا انکار حدیث کا انکار ہے ، نیز ان احادیث کی تاویل اہل ضلال کا شیوہ ہے ۔
    نوٹ : امام مہدی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے۔
    ابو القاسم عبد الرحمٰن بن عبد الله بن احمد السہيلی (ت:۵۸۱) کہتے ہیں کہ:’’أَنّ الْمَھْدِيّ الْمُبَشّرَ بِهِ آخِرَ الزّمَانِ مِنْ ذُرّيّتِهَا‘‘۔’آخری زمانے میں جس مہدی کی بشارت سنائی گئی ہے وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ذریت میں سے ہوں گے ۔ (۲۱)
    امام مہدی حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہوں گے یا حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہوں گے؟ اہل تشیع کے نزدیک حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہوں گے لیکن درست بات یہ ہے کہ وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہوں گے کیوں کہ انہوں نے اللہ کی خاطر خلافت کو چھوڑ دیا تھا دوبارہ اللہ ان کی اولاد کو خلافت عطا فرمائے گا ۔ اور یہی اللہ کا طریقہ رہا ہے ۔
    حوالہ جات :
    (۱) سنن ابن ماجہ – ت عبد الباقی:۲؍۱۳۴۰، ابن ماجہ (ت:۲۷۳)
    (۲) جولائی ۲۰۲۴ ،جلد :۱۳، شمارہ :۷
    (۳) المنار المنيف في الصحيح والضعيف – ت أبي غدة ١/‏١٤٩ — ابن القيم (ت ٧٥١)
    (۴)المنار المنيف في الصحيح والضعيف – ت أبي غدة ١/‏١٤٩ — ابن القيم (ت ٧٥١)
    (۵)ميزان الاعتدال ٣/‏١٢٨ — شمس الدين الذهبي (ت ٧٤٨)
    (۶)العلل المتناهية في الأحاديث الواهية ١/‏٣٣٢ — ابن الجوزي (ت ٥٩٧)
    (۷)المطالب العالية محققا ١٨/‏٤٥٠ — ابن حجر العسقلاني (ت ٨٥٢ )
    (۸)الموضوعات لابن الجوزي ٢/‏٣٩ — ابن الجوزي (ت ٥٩٧)
    (۹)الموضوعات لابن الجوزي ٢/‏٣٩ — ابن الجوزي (ت ٥٩٧)
    (۱۰)تذكرة الموضوعات للفتني ١/‏٢٢٣ — الفتني (ت ٩٨٦)
    (۱۱)ميزان الاعتدال (٣/١٢٨)
    (۱۲)الشيعة والتشيع – فرق وتاريخ ١/‏٣١٦ — إحسان إلهي ظهير (ت ١٤٠٧)
    (۱۳)مسألة التقريب بين أهل السنة والشيعة ١/‏٣٥٢ — ناصر القفاري۔
    (۱۴)معجم البلدان ٣/‏١٧٣ — الحموي، ياقوت (ت ٦٢٦)
    (۱۵)تعريف بالأماكن الواردة في البداية والنهاية لابن كثير ٢/‏٤٠ )
    (۱۶)تاريخ ابن خلدون ١/‏٤٠١ — ابن خلدون (ت ٨٠٨)۔ أشراط الساعة – الوابل ١/‏٢٦٦ —يوسف الوابل (معاصر)
    (۱۷)الرد على من كذب بالأحاديث الصحيحة الواردة في المهدي ٤٦/‏٣٦٥—عبد المحسن العباد
    (۱۸)الإشاعة لأشراط الساعة ١/‏٢١٥ — البرزنجي (ت ١١٠٣)
    (۱۹)لوامع الأنوار البهية ٢/‏٨٤ — السفاريني (ت 1188)
    (۲۰)الإرشاد إلى صحيح الاعتقاد والرد على أهل الشرك والإلحاد ١/‏٢٢٦ — صالح الفوزان
    (۲۱)الروض الأنف ت تدمري ٢/‏٢٧٩ — السهيلي (ت ٥٨١)

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings