-
”اجماع معلوم“ اور ”اجماع مجہول“ کسی مسئلہ میں ”اجماع“ کا حوالے دینے سے پہلے یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ ”اجماع“ کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: اجماعِ معلوم (اجماعِ قطعی)
اس سے مراد وہ اجماع ہے جس کا انعقاد تواتر اور صراحت کے ساتھ ہوا ہو، اور یہ اس قدر عام ہو کہ کسی بھی عالم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے تو ایک ہی جواب ملے ۔
اس طرح کا اجماع حجت ہے ، اس کی حجیت پر تمام اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے ، اس کا ماننا سب پر لازم اور ضروی ہے ، اگر کوئی اس سے انکار کرے تو وہ گمراہ ہے اور سخت سزا کا مستحق ہے۔
بلکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تو ایک مقام پر ایسے اجماع کے منکر کو بالاتفاق کافر قرار دیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
”والإنسان متى حلل الحرام–المجمع عليه–أو حرم الحلال–المجمع عليه–أو بدل الشرع –المجمع عليه–كان كافرا مرتدا باتفاق الفقهاء“۔
”جب کوئی انسان بالاجماع کسی حرام چیز کو، حلال کردے ، اور بالاجماع کسی حلال چیز کو، حرام کہہ دے ، اوربالاجماع ثابت شدہ کسی شرعی مسئلہ کو بدل دے تو وہ باتفاق فقہاء کافر و مرتد ہوجائے گا“۔
[مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 3/ 267]
واضح رہے کہ بغیر نص کے حقیقی اجماع کا انعقاد ناممکن ہے اسی لیے اجماع قطعی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ نص بھی موجود ہوتی ہے۔
دوسری قسم : اجماعِ مجہول (اجماعِ ظنی):
اس سے مراد ایسا اجماع ہے جس کا انعقاد تواتر اور صراحت کے ساتھ نہ ہوا ہو ، اور اس کے وقوع پر کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو۔
اس طرح کے اجماع کے ”امکان وقوع“میں بھی اختلاف ہے ، اوراس کی ”حجیت“ میں بھی اختلاف ہے ۔
اور راجح بات یہ ہے کہ یہ اجماع ممکن بھی ہے اور حجت بھی ہے لیکن امکان اور حجیت دونوں اعتبار سے اس کا معاملہ ”اجماع قطعی“ جیسا نہیں ہے۔
جہاں تک امکان وقوع کی بات ہے تو اس سلسلے میں سب سے معتدل قول ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ہے ، کہ صحابہ کی جماعت میں اس طرح کے اجماع کا حقیقی انعقاد تو بہت ممکن ہے، لیکن صحابہ کے بعد کےادوار میں اس طرح کے اجماع کا حقیقی انعقاد کافی مشکل ہے کیونکہ عہد صحابہ کے بعد زمین کے بہت سارے حصوں میں علماء ومجتہدین وجود میں آگئے اور جس طرح صحابہ کے اقوال وفتاوی کو جمع کرنے اورانہیں بیان کرنے کا اہتمام تھا ، بعد کے علماء و مجتہدین کے ساتھ یہ معاملہ نہیں رہا ۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے ساتھ یہی موقف امام ابن حبان ، امام ابن حزم اور علامہ رازی وغیرہم کا بھی ہے ، امام احمد رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف ظاہر ہوتا ہے۔ بلکہ امام احمد رحمہ اللہ تو اس طرح کے معاملے میں لفظ ”اجماع“ کے استعمال ہی کو درست نہیں جانتے ان کا کہنا ہے اس معاملے میں صرف اختلاف سے لاعلمی کی صراحت کی جائے اور اجماع کا لفظ استعمال نہ کیا جائے ۔
بطور مثال عرض ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ سے سات لوگوں کی جانب سے بھینس کی قربانی کا سوال ہوا تو انہوں نے جواب دیا: ”لا أعرف خلاف هذا“۔ ”مجھے اس کے خلاف کوئی قول معلوم نہیں“۔
[مسائل أحمد وإبن راهويه، ت الجامعة الإسلامية: 8/ 4027]
یہاں امام احمد رحمہ اللہ نے اختلاف کی عدم معرفت کی بنیاد پراجماع کا دعویٰ نہیں کیا۔ کیونکہ اس مسئلہ میں اختلاف کا عدم علم اس بات کو مستلزم نہیں کہ اختلاف کا وجود ہی نہ ہو۔
. رہی بات اجماع مجہول( اجماع ظنی) کی حجیت کے اعتبار سے تو یہ اس درجہ میں حجت ہے کہ کسی مجتہد کو اس پر اطمینان ہو تو اس پر اعتماد کرسکتا ہے ، اس کے سہارے فتویٰ دے سکتا ہے ، بالخصوص اگر اس کا تعلق صحابہ وتابعین سے ہو تو نصوص کے فہم میں اسے ترجیح دینا ہی اقرب الی الصواب ہے ۔ لیکن بہرحال یہ ایسی حجت نہیں ہے کہ دوسروں پر اسے مسلط کیا جاسکے اور دوسروں کےلیے بھی اسے لازم الاتباع قراردیا جاسکے ۔
خ اجماع کی مذکورہ دونوں قسموں کو اچھی طرح ذہن میں رکھنا چاہیے کیونکہ مقلدین ان دونوں کو بہت خلط ملط کرتےہیں ۔
یادرہے کہ مقلدین کے یہاں جس اجماع کی دن رات گردان ہوتی ہے وہ ننانوے فیصد دوسری قسم ہی کا اجماع یعنی ”اجماع مجہول“ ہی ہوتا ہے ، لیکن مصیبت یہ ہے کہ یہ لوگ دعویٰ تو دوسری قسم والے اجماع (اجماع مجہول) کا کرتے ہیں ، لیکن اسے پہلی قسم والے اجماع (اجماع معلوم) کی حیثیت دے بیٹھتے ہیں ۔
یادرہے کہ اختلاف کے عدم علم پر دعوائے اجماع کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔
”عدم العلم بالخلاف“ کے اظہار میں سرے سے کوئی دعویٰ ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ اختلاف سے فقط اپنی لاعلمی کا محض اظہار ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے الفاظ کی بناپر اجماع کا دعویٰ کرنا بے بنیاد ہے۔
. امام ابن حزم رحمہ الله (المتوفی456ھ) فرماتے ہیں:
’’وقد أدخل قوم في الاجماع ما ليس فيه وقوم عدوا قول الاكثر اجماعا وقوم عدوا ما لا يعرفون فيه خلافا اجماعا وان لم يقطعوا على أنه لا خلاف فيه‘‘۔
”بعض لوگوں نے اجماع میں ایسی چیزیں داخل کردیں جن کا اجماع سے کوئی تعلق نہیں ہے، چنانچہ بعض نے اکثریت کے قول کو ہی اجماع شمار کرلیا اور بعض نے مسئلہ میں کسی اختلاف سے آگاہی نہ ہونے کو ہی اجماع سمجھ لیا، اگرچہ وہ قطعیت کے ساتھ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ اس میں اختلاف موجود نہیں ہے‘‘۔
[مراتب الإجماع لابن حزم ص: 3]
. امام نووي رحمہ الله (المتوفی676ھ) فرماتے ہیں:
’’فإنه قد قال ”لا أعرف فيه خلافا“ ولا يلزم من عدم معرفته عدم الخلاف‘‘۔
”انہوں نے یہ کہا ہے کہ : ”میں اس میں خلاف نہیں جانتا“ اور ان کے خلاف نہ جاننے سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ خلاف موجود ہی نہیں ہے“۔
[المجموع شرح المھذب 2/ 377]
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد امام ابن القیم رحمہ اللہ نے بھی متعدد مقامات پر اس کی وضاحت فرمائی ہے۔
[مجموع الفتاوى، ت حسنين: 6/ 282 ، إعلام الموقعين ت مشھور: 3/ 558]
. ابن نجيم الحنفي (ت 1005ھـ) لکھتے ہیں:
’’قول المجتهد ”لا أعلم مخالفا“ ليس حكاية الإجماع‘‘۔
”مجتہد کا یہ کہنا کہ ”میں اس کا مخالف نہیں جانتا“ یہ اجماع کا بیان نہیں ہے“۔
[النھر الفائق شرح كنز الدقائق 1/ 29]
. بلکہ امام احمد رحمہ اللہ (المتوفی241ھ)نے تو اختلاف سے عدم علم کی بناپر اجماع کا دعویٰ کرنے والوں کو جھوٹا قرار دیا ہے ۔
”من ادعى الاجماع فهو كذب لعل الناس قد اختلفوا هذا دعوى بشر المريسي والاصم ولكن لا يعلم الناس يختلفون اولم يبلغه ذلك ولم ينته اليه فيقول لا يعلم الناس اختلفوا“۔
”جو اجماع کا دعویٰ کرے اس کی بات جھوٹ ہے ممکن ہے لوگوں نے اختلاف کیا ہو، ایسا دعویٰ تو بشر بن غیاث المریسی جہمی اور ابوبکر الاصم معتزلی کیا کرتے تھے ، لیکن آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ لوگوں کے اختلاف سے اسے واقفیت نہیں ہے ، یا اس تک کسی اختلاف کی خبر نہیں پہنچی ، یعنی اسے یوں کہنا چاہیے کہ وہ نہیں جانتا کہ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے“ ۔
[مسائل أحمد، رواية عبد الله، ت زهير: ص: 439]
. اختلاف کے عدم علم پر دعوائے اجماع کی شروعات معتزلہ اور جہمیہ کی طرف سے ہوئی ہے ، اور اس کے پیچھے ان کا مقصد یہ تھا کہ اس کے سہارے کتاب وسنت کا رد کیا جائے ۔
. شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ الله (المتوفی728ھ) فرماتے ہیں:
”وفي مثل هذه المسائل قال الإمام أحمد من ادعى الإجماع فهو كاذب فإنما هذه دعوى بشر وابن علية يريدون أن يبطلوا السنن بذلك يعني الإمام أحمد رضي الله عنه أن المتكلمين في الفقه من أهل الكلام إذا ناظرتهم بالسنن والآثار قالوا هذا خلاف الإجماع“۔
”اس طرح کے مسائل میں امام احمد رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ جو اجماع کا دعویٰ کرے وہ کذاب ہے ، کیونکہ یہ طریقہ ”بشر“ اور ”ابن علیہ“ کا ہے یہ لوگ اس کے ذریعہ سنتوں کا ابطال کرنا چاہتے ہیں ، امام احمد ر حمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ جب ان جیسے اہل کلام سے کسی فقہی مسئلہ میں آپ بحث کرتے ہوئے احادیث و آثار پیش کریں گے تو ان کا جواب یہ ہوگا کہ یہ اجماع کے خلاف ہے“ ۔
[مجموع الفتاوىٰ، ت حسنين: 6/ 282]
. معتزلہ اور جہمیہ کی اسی پالیسی اور اسی طریقۂ واردات کو بعد میں مقلدین نے بھی اپنا لیا ، اور ”اجماع مجہول“ کا سہارا لے کر قرآن وحدیث کے دلائل کو رد کرنے لگے ۔
. امام ابن قيم رحمہ الله (المتوفی751ھ) فرماتے ہیں:
”وحين نشأت هذه الطريقة توَّلد عنها معارضة النصوص بالإجماع المجهول، وانفتَح بابُ دعواه، وصار من لم يعرف الخلاف من المقلدين إذا احتُج عليه بالقرآن والسنة قال: هذا خلافُ الإجماع“۔
”جب یہ طریقہ شروع ہوگیا تو پھر ”اجماع مجہول“ کے سہارے نصوص کے معارضہ کی فکر نے جنم لیا ، اور ایسے اجماعات کے دعویٰ کا دروازہ کھل گیا ، اور حالت یہ ہوگئی کہ مقلدین میں سے جس کسی کو بھی کسی مسئلہ میں اختلاف کا علم نہ ہوا اس کے سامنے اس مسئلہ کے خلاف جب قرآن وحدیث کو پیش کیا جاتا تو وہ کہتا یہ اجماع کے خلاف ہے“۔
[إعلام الموقعين ت مشهور: 3/ 558]
بلکہ کچھ لوگوں کی حالت تو یہ ہوگئی ہے کہ وہ کسی ایسے مسئلہ میں ”اجماع“ کا دعویٰ کرلیتے ہیں جس کا سلف میں سے کوئی سرے سے قائل ہی نہیں ہوتا ہے چہ جائے کہ اس سے کسی کا اختلاف ثابت نہ ہو ۔
. شيخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ الله (المتوفی728ھ) فرماتے ہیں:
”ولا تعبأ بما يفرض من المسائل ويدعي الصحة فيها بمجرد التهويل أو بدعوى أن لا خلاف في ذلك وقائل ذلك لا يعلم أحدا قال فيها بالصحة فضلا عن نفي الخلاف فيها“۔
”ایسے مسائل کو خاطر میں مت لائیے جنہیں فرض کرکے اس پر صحت کا دعویٰ کرلیا جاتا ہے ، محض دھونس پٹی کے سہارے ، یا یہ کہہ کر کہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے ، اور ایسی بات کہنے والے کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کسی نے اسے صحیح بھی کہا ہے ، چہ جائے کہ اس سے کسی کا اختلاف معلوم نہ ہو“۔
[مجموع الفتاوىٰ، ت حسنين: 6/ 282]
. حاصل یہ کہ : کتاب وسنت کے سچے متبع کو ہر دعوائے ”اجماع“ پر کان نہیں دھرنا چاہئے گرچہ اس مسئلہ میں اختلاف کا علم نہ ہو ، کیونکہ بیشتر دعوائے اجماع بالخصوص مقلدین کے یہاں پائے جانے والے نوے فی صد ”اجماعات“ کا حال یہی ہے کہ وہ ”اجماع معلوم“ نہیں بلکہ ”اجماع مجہول“ ہوتے ہیں۔
بطور مثال عیدین میں خطبوں کی تعداد ہی کولیجیے تمام مقلدین حنفی ، شافعی ، مالکی اور حنبلی اس بات پر متفق ہیں کہ عیدین میں دو خطبے ہوں گے ، اوراسی پر ان کے یہاں مسلسل عمل چلا آرہا ہے ،بلکہ ابن حزم رحمہ اللہ نے بھی عیدین میں دو خطبہ بتاکر یہ کہہ دیا:
”كل هذا لا خلاف فيه“ ، ”ان باتوں میں کسی کا اختلاف نہیں ہے“ ۔
[المحلى لابن حزم، ت بيروت: 3/ 293]
اور حقیقت یہی ہے کہ اس کے خلاف کسی بھی عالم کا کوئی صریح قول اسلام کی فقہی تاریخ میں مروی نہیں ہے ، اس بناپر بعض نے یہ دعویٰ بھی کردیا کہ عیدین کے دو خطبے ہونے پر امت کا ”اجماع“ ہے ۔
ہماری معلومات کی حد تک علامہ البانی رحمہ اللہ (المتوفی1420ھ) سے پہلے (ہندوستانی اہلِ حدیث کے علاوہ) اس کے خلاف کسی بھی عالم کا کوئی صریح کلام مروی نہیں ہے ، علامہ صنعانی ( المتوفی1182ھ) نے صرف اشارہ کیا ہے لیکن صریح اور دو ٹوک لفظوں میں انہوں نے بھی کوئی بات نہیں کہی ہے ۔
لیکن آج اگرکوئی تقلیدی شخص کھڑا ہوکر یہ کہے کہ عیدین میں دوسرے خطبہ کا انکار سب سے پہلے علامہ البانی رحمہ اللہ نے کیا ہے ، اس سے پہلے اس پر سارے علماء کا اتفاق چلا آرہا تھا ، یا اس پر امت کا ا جماع تھا ، تو ہم ایسے تقلیدی شخص کی بات کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لائیں گے کیونکہ احادیث کی روشنی میں عیدین میں صرف اور صرف ایک ہی خطبہ کا ثبوت ملتا ہے۔
رہی بات دعوائے اجماع کی تو اس تحریر میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ یہ معلوم اور قطعی اجماع نہیں بلکہ یہ ”اجماع مجہول“ ہے جو اختلاف سے لاعلمی کی عمارت پر کھڑا ہے ، اور اختلاف کا عدم علم اختلاف کے عدم وجود پر دلالت نہیں کرتا ہے۔
الحمدللہ ہندوستان میں اہل حدیثوں کے یہاں عام عمل یہی ہے کہ عیدین میں ایک ہی خطبہ دیاجاتاہے ، اور ظن غالب ہے کہ ہر دور میں ایک جماعت کا موقف و عمل یہی تھا یہ اور بات ہے کہ اسلام کی فقہی تاریخ میں اس کا ذکر نہیں ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف کتاب وسنت کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے نہ کہ امتیوں کے اقوال کی بھی۔
علامہ البانی رحمہ اللہ فرما تے ہیں:
”لأن الله تعالىٰ لم يتعهد لنا بحفظ أسماء كل من عمل بنص ما من كتاب أو سنة وإنما تعهد بحفظهما فقط كما قال:: ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ [الحجر: 9] فوجب العمل بالنص سوءا علمنا من قال به أو لم نعلم“۔
”اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ضمانت نہیں لی ہے کہ وہ کتاب و سنت پرعمل کرنے والے جملہ حضرات کے اسماء کی حفاظت کرے گا، بلکہ اس نے صرف کتاب و سنت کی حفاظت کی ذمے داری لی ہے جیساکہ فرمایا:ذکر کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ [الحجر: 9] پس کسی بھی ثابت شدہ نص پرعمل کرنا واجب ہوگا، خواہ اس کے قائلین یا اس پرعمل کرنے والوں کے نام معلوم ہوں یا نہ ہوں“۔
[آداب الزفاف في السنة المطھرة :267]
خلاصۂ کلام یہ کہ : جو مسئلہ قرآن اور صحیح حدیث سے ثابت ہوجائے اور وہ صحابہ کی متفقہ فہم کے خلاف نہ ہو اسی کو اپنانا چاہئے گرچہ مقلدین اس کے خلاف فتویٰ بازی اور تعامل پر اتفاق کرلیں اوراسلام کی فقہی تاریخ میں بھی اس کے خلاف کوئی چیز نظر نہ آئے۔