-
نمازِ استسقاء میں خطبوں کی تعداد: اہل حدیث اور تقلیدی مذاہب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سرے سے نمازِ استسقاء ہی کے قائل نہیں ہیں۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا موقف ذکر کرنے کے بعد ان کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے:
وقَالَ النُّعْمَانُ أَبُو حَنِيفَةَ: لَا تُصَلَّى صَلَاةُ الِاسْتِسْقَاءِ وَلَا آمُرُهُمْ بِتَحْوِيلِ الرِّدَاءِ وَلَكِنْ يَدْعُونَ وَيَرْجِعُونَ بِجُمْلَتِهِمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: خَالَفَ السُّنَّةَ.
”ابوحنیفہ نعمان (رحمہ اللہ)کہتے ہیں کہ استسقاء کی کوئی نماز نہیں پڑھی جائے گی اور نہ میں انہیں چادر پلٹنے ہی کا حکم دیتا ہوں، بلکہ سارے لوگ ایک ساتھ دعا کریں گے اور لوٹ آئیں گے ، امام ترمذی کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ نے سنت کی مخالفت کی ہے “۔
[سنن الترمذي، تحقیق أحمد محمد شاكر 2/ 446]
البتہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد (امام ابو یوسف اور امام محمد) اس کے قائل ہیں، اس لیے احناف کے ہاں بھی نمازِ استسقاء مشروع ہے۔
حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی چاروں مذاہب کے پیروکار خطبۂ جمعہ پر قیاس کرتے ہوئے عیدین میں بھی دو خطبے دیتے ہیں۔
احناف، مالکیہ اور شوافع کے ہاں جس طرح جمعہ پر قیاس کرتے ہوئے عیدین میں دو خطبے ہیں، اسی طرح اسی قیاس کی بنیاد پر ان کے یہاں نمازِ استسقاء میں بھی دو خطبے ہیں۔
لیکن حنابلہ کے ہاں مشہور و مفتیٰ بہ قول کے مطابق نمازِ استسقاء میں صرف ایک ہی خطبہ ہے۔ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ حنابلہ نے نمازِ استسقاء کے خطبے کو جمعہ کے خطبے پر قیاس کیوں نہیں کیا؟
الحمد للہ، اہل حدیث کا موقف بالکل واضح ہے۔ ان کے ہاں جمعہ میں دو خطبے احادیث سے ثابت ہیں، اس لیے جمعہ میں دو خطبے دیے جائیں گے۔ اور عیدین و نمازِ استسقاء میں صرف ایک ہی خطبہ ثابت ہے، اس لیے ان نمازوں میں صرف ایک ہی خطبہ دیا جائے گا۔
اہل حدیث نہ عیدین کے خطبے کو جمعہ کے خطبے پر قیاس کرتے ہیں اور نہ استسقاء کے خطبے کو، کیونکہ عیدین اور استسقاء کی کیفیت جن احادیث میں مروی ہے، ان میں صرف ایک ہی خطبے کا ذکر ہے۔
والحمد لله على نعمة الإتباع۔